حیات بشیر — Page 366
366 رحیم وکریم نے اُسے ٹال دیا یا یوں کہئے کہ خدا کے علم میں اس کی کوئی اور تاویل تھی۔محترم مولوی برکات احمد مرحوم راجیکی نے لکھا ہے۔یہ خواب بظاہر اس طرح پورا ہوا کہ آپ کے فرزند مولوی مصلح الدین صاحب را جیکی ۴۷ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔سو اب بھی خدا کے حقیقی علم کو کون جانتا ہے۔و نـرجـو امــن الله خيراً اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کی اولاد پر اپنے فضل و رحمت کا سایہ رکھے اور ہمیشہ رضا کے راستہ پر چلائے۔اور رضا پر موت دے۔آمین یا ارحم الراحمین۔۳۴ ۴۶: ”امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔میں تین چار دن کے لئے ربوہ گیا تھا۔اور آپ کی ملاقات کی بہت خواہش تھی مگر کام کی پریشانی کی وجہ سے مل نہیں سکا۔البتہ آپ کی خدمت میں سلام اور دعا کا پیغام بھجوا دیا تھا۔اس کے بعد مجھے جلدی ہی ام مظفر کی بیماری کی وجہ سے لاہور واپس آنا پڑا آپ کی خدمت میں گذارش ہے کہ ام مظفر کی صحت یابی کے لئے دعا فرمائیں۔تا کہ یہ عاجز جلد ربوہ میں آکر سکون قلب کے ساتھ خدمت دین میں مصروف ہو سکے۔میں نے ایک دو منذر رویا بھی دیکھے تھے۔ان کی وجہ سے بھی دل پر بوجھ ہے۔جلسہ سالانہ کے لئے ایک مضمون لکھ رہا ہوں۔اس کی کامیابی اور بابرکت ہونے کے لئے بھی دعا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ اسے دوسروں کے لئے موجب رحمت و برکت وہدایت اور میرے لئے موجب ثواب بنائے۔آمین۔آپ کی بابرکت اور کام کرنے والی لمبی زندگی کے لئے دعا کرتا ہوں۔اور اس میں لذت پاتا ہوں۔عزیز مظفر احمد کی اولاد کے لئے بھی دعا فرمائیں۔وہ اب تک اس نعمت سے محروم ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔“ ۳۵ ۴۷ : ” میں عید کے بعد تیسرے دن چند دن کی رخصت لے کر لاہور آیا تھا مگر آتے ہی شدید درد نقرس اور بخار میں مبتلا ہو گیا۔چند دن تو بہت تکلیف رہی مگر پرسوں سے کچھ افاقہ ہونے لگا تھا۔گذشتہ رات سے پھر دوسرے پاؤں اور ہاتھ میں تکلیف کا آغاز ہے۔ایسی تکلیفوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اور اس میں شاید کچھ مصلحت الہی ہو گی۔کہ انسان دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ رکھے گو جسم کی تکلیف بڑھنے سے سے بعض اوقات روح اس قدر بے چین ہونے لگتی ہے کہ دعا میں توجہ قائم رہنا مشکل ہو جاتا