حیات بشیر — Page 363
363 مرحوم نے الفضل کے خاص نمبر میں چھپوائے تھے۔بخدمت حضرت مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مل کر باعث مسرت ہوا کہ خدا کے فضل سے آپ معہ اہل وعیال بخیریت ہیں اور روزوں کی برکات سے متمتع ہونے کی توفیق مل رہی ہے۔وذالک فضل الله يؤتيه من يشاء میں نے خدا کے فضل سے اس رمضان میں آپ کے واسطے دعا کی زیادہ توفیق پائی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔اور آپ کی تمام نیک مرادوں کو پورا کرے اور دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین۔میں نے اپنی ذات کے لئے کبھی کوئی دنیا کی دعا نہیں کی اور میں سمجھتا ہوں کہ گو خدا بمنزلہ باپ ہے اور اولاد کا کام ہے کہ اپنی ہر ضرورت باپ سے مانگے لیکن شاید توکل کا بہترین مقام یہ ہے کہ انسان دین کی طرف توجہ رکھے اور اپنی دنیا کو خدا کے فضل اور رحم پر چھوڑ دے۔میری زبان پر ایک دفعہ یہ الفاظ جاری ہوئے کہ پرا لا تخش من ذى العرش اقلا لا اور ایک دفعہ مجھے قرآن مجید کا ایک ورق دکھایا گیا۔جس کے دائیں جانب یہ الفاظ تھے کہ بغیر حساب اور باقی سب ورق سفید تھا۔سو آپ اپنی دنیا کو خدا کے سپرد فرمائیں۔اس توکل میں برکت ہی برکت ہے۔لیکن اگر دنیا کی کوئی چیز مانگیں تو قرآن وحدیث کی بیان کردہ دعاؤں سے کوئی زیادہ لفظ زبان پر نہ لائیں۔میں اس بات کو تصور میں نہیں لا سکتا کہ بندہ خدا کے دین کے کام میں لگا ہوا ہو۔اور وہ اسے دنیا میں پریشان ہونے دے۔یہ خدا تعالیٰ کی محبت اور وفاداری کے سراسر خلاف ہے۔حضرت داؤد نے تو یہاں تک کہا ہے کہ میں نے کسی خدا رسیدہ آدمی کی اولاد کو سات پشت تک بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔پس آپ ہر گز فکر مند نہ ہوں اور اپنے رستہ پر گامزن ہوتے جائیں۔اگر خدا دنیا کی فراخی دے تو فبہا۔اور اگر نہ دے تو ایک سچے مومن کے لئے ”الفقر فخری“ میں کیا کم تسلی ہے۔تاہم میں نے آپ کے واسطے بہت دعا کی ہے۔وارجوا من الله خيراً۔آپ بھی اس عاجز کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان روزوں کے ایام میں آپ کی کتاب حیات قدسیہ کا پھر دوبارہ مطالعہ کیا۔ماشاء اللہ خوب کتاب ہے اور اس انداز میں لکھی ہوئی ہے جس میں حضرت خلیفۃ امسیح اوّل