حیات بشیر — Page 32
32 ایک دفعہ خاکسار نے آپ کو ایک خط لکھا اور اس میں ایک شخص کے متعلق میرے قلم سے بعض تیز الفاظ لکھے گئے جو میری غلطی سمجھو یا سہو قلم بہر حال آپکو وہ لفظ پسند نہ آئے۔یہ بھی ضروری تھا کہ مجھے ٹوکا جائے اور یہ بھی کہ میرے جذبات کا لحاظ رکھا جائے۔دیکھئے ان دونوں انمل اور متضاد باتوں ہے کو آپ نے کس خوبی سے ادا کیا، آپ نے مجھے لکھا ”میں تو سمجھتا تھا کہ آپکی طبیعت میں جمال لیکن خط سے معلوم ہوتا ہے کہ جلال بھی ہے۔خاکسار ان الفاظ سے شرمسار بھی ہوا اور شکر گذار بھی۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ خدا کے پاک بندے ایسے طریق پر خطا پوشی کرتے ہیں جو خطا نوازی معلوم ہوتی ہے۔اصلاح کا یہ طریق کتنا دلنشین کتنا کمیاب اور کتنا درد انگیز ہے۔آپ کے مندرجہ بالا فقرہ سے مجھے فارسی زبان کی وہ ضرب المثل عملاً سمجھ میں آ گئی جو کہتے ہیں:-کجد ارو مریر قادیان اور درویشان قادیان سے آپ کو بڑی محبت تھی ایک دفعہ ایک آم قادیان سے ربوہ میں آپ کے پاس پہنچا اور آپ نے مجھے لکھا۔”آج آپ کو تندرستی کی حالت میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، ورنہ میں آپ کا خط پڑھ کر ڈر گیا تھا اور دعا کرتا رہا۔قادیان سے ایک فجری آم آیا تھا جس کا ایک حصہ ایک اور مہمان کو دیدیا اور باقی حصہ آپ کو بھجوا رہا ہوں۔خاکسار مرزا بشیر احمد ۵۹-۰۶-۱۶ اس طریق پر آپ اپنی محبت اور دعاؤں سے نوازتے تھے۔کبھی خط میں لکھتے : ” مجھے آپ کے ساتھ خاص محبت ہے۔اس عاجز کیلئے ضرور دُعا فرمائیں۔دعا مومنوں کا ایک بڑا سہارا ہے۔“ ایک حقیر خادم کے ساتھ اس قدر مروت و مؤدت آپ کے طبعی انکسار اور بلندی اخلاق کی روشن دلیل ہے۔مجلس مشاورت نے یہ تجویز کیا کہ سلسلہ کے مختلف صیغوں میں زیادہ ربط پیدا کرنے کیلئے حضرت صاحب کی منظوری کے بعد ایک نگران بورڈ قائم ہو جس کے صدر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہوں اور آپ کی رائے فیصلہ کن ہو۔آپ کی طبیعت میں ایک بڑا پیارا رکاؤ اور حجاب تھا۔اس اصول کے لحاظ سے کہ برائے مامنہ کرسی که ماموریم خدمت را لیکن جب ذمہ داری آپ کو سونپ دی جاتی تو آپ مردانہ وار کاموں کی انجام دہی میں مشغول ہو جاتے اور جو کام آپ کے سپرد ہوتا اس کے ہر پہلو پر غور کرتے آنے والی مشکلات کا اندازہ لگاتے اور ایک ضابطہ عمل مرتب فرماتے۔گویا منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ایک پڑی بچھا دیتے