حیات بشیر — Page 294
294 خاموشی کے بعد فرمایا ”آپ کی بات تو معقول ہے اب اس کے متعلق تو مجھے وصیت کرنی پڑے گی۔اُس وقت اپنی ڈائری نکالی اور اس پر وصیت لکھ دی اور وہی وصیت میرے سات مرلے والے سرٹیفکیٹ پر اپنی قلم سے سرخ سیاہی سے لکھ دی جواب بھی میرے پاس موجود ہے جو مندرجہ ذیل ہے: نوٹ: اگر ان سات مرلوں کے ساتھ ملحق اراضی نکل آئے تو اس میں سے بھی تین مرلہ اراضی ڈاکٹر ممتاز احمد خاں صاحب کو اسی شرح - ۱۲۰ فی مرلہ پر دی جائیگی۔مرزا بشیر احمد ۴۵-۱۱-۲۷ اللہ اللہ کس قدر معاملات میں صفائی اور دوسروں کے حقوق کا خیال تھا۔مکرم میاں روشن دین صاحب صراف سکنہ اوکاڑہ نے بیان کیا کہ میں جب قادیان میں ہجرت کر کے گیا اور صرافی کی دوکان کھولی تو حضرت میاں صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور فرمایا کہ جو شخص یہاں آتا ہے وہ اخلاص سے زیادہ کام لیتا ہے۔اس لئے ہوشیار ہو کر رہنا چاہیے۔خواہ کوئی میرا نام بھی آکر لے۔میرے دستخطوں کے بغیر میرے نوکر کو بھی کوئی چیز نہ دیں ورنہ میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔“ لین دین کے معاملات میں بھی آپ دیگر امور کی طرح شریعت کی پابندی کا برابر خیال رکھتے تھے۔میاں روشن دین صاحب ہی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ محلہ دارالعلوم میں کچھ زمین خریدنے کا خیال ہوا۔حضرت میاں صاحب مسجد مبارک کی چھت پر مغرب کی نماز کے وقت ٹہل رہے تھے۔میں بھی ساتھ ہو لیا اور زمین کے متعلق بات شروع کی۔آپ مجھے ایک کونہ میں لیجا کر فرمانے لگے کہ گو قادیان میں زمین خریدنا بھی دینی کام ہے مگر پھر بھی بیج کا معاملہ ہے اس لئے دفتر میں آ کر بات کرنا۔“ آپ کو اول تو خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی سے قرض لینے کی نوبت ہی بہت کم آتی تھی۔لیکن اگر آپ قرض لیتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے روپیہ واپس کرتے وقت کچھ نہ کچھ زیادہ دیتے تھے اور معاہدہ کے اس قدر پابند تھے کہ ناممکن تھا۔واپسی قرض کی تاریخ مقررہ سے ایک گھنٹہ بھی بعد میں قرض ادا کریں۔اسی طرح آپ اس بات کے بھی متمنی