حیات بشیر — Page 271
271 کر بیتاب ہو گئے اور اور غیر ارادی طور پر آپ کے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کو جا لگے۔میں سمجھتا ہوں۔اس وقت آپ نے میرے حق میں کوئی ایسی دعا کی جس کا اثر آجتک میں محسوس کر رہا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دن کے بعد میرے حالات بدل گئے اور سہولت اور اطمینان کے ساتھ گذر اوقات ہونے لگا۔فالحمد للہ علی ذالک ہر مصیبت زدہ کی امداد جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔بیشمار مصیبت زدہ لوگ آپ کی خدمت میں اپنا دُکھ درد بیان کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے اور آپ حتی المقدور ان کے دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے کی انتہائی کوشش فرماتے تھے۔ان مصیبت زدہ لوگوں میں سے بعض تو وہ ہوتے تھے جو زبانی یا تحریری طور پر امداد حاصل کرنے کے لئے درخواست بھی کر دیتے تھے لیکن بعض سفید پوشی یا سوال سے بچنے کی وجہ سے امداد کی درخواست نہیں کرتے تھے لیکن مستحق ضرور ہوتے تھے اور بعض ایسے بھی ہوتے تھے جو نہ درخواست کرتے تھے اور نہ اپنی تکالیف کا ذکر کرتے تھے۔حضرت میاں صاحب ان تینوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھتے تھے۔محترم مختار احمد صاحب ہاشمی ہیڈ کلرک دفتر خدمت درویشاں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ہدایت فرمائی کہ اگر آپ کی نظر میں کوئی امداد کا مستحق ہو اور وہ خود سوال کرنے میں حجاب محسوس کرتا ہو تو ایسے افراد کا نام آپ اپنی طرف سے پیش کر دیا کریں مگر یہ خیال رہے کہ وہ واقعی امداد کا مستحق ہو۔چنانچہ میں اس عرصہ میں ہر موقعہ پر مستحق افراد کے نام پیش کر کے انہیں امداد دلوا تا رہا ہوں۔ایک دفعہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے چند غرباء کو رقم بطور امداد ادا کرنے کی مجھے ہدایت فرمائی مگر میں خاموش ہو رہا۔اس پر حضرت میاں صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے میری خاموشی کی وجہ دریافت فرمائی۔میں نے عرض کیا کہ امدادی فنڈ ختم ہو چکا ہے اور کوئی گنجائش (Balance) نہیں ہے۔آپ نے مشفقانہ نگاہوں سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا۔گھبرائیں نہیں۔رقم اوور ڈرا (Over Draw) کر کے ادا کردیں۔اللہ تعالیٰ بہت روپیہ دے گا۔چنانچہ اگلے چند دنوں میں اس مد میں سینکڑوں روپے آگئے۔“ 1ے۔غرباء پروری کا یہ جذبہ اتنا عام اور نمایاں تھا کہ اپنے تو خیر اپنے ہی تھے۔غیر احمدی اور