حیات بشیر — Page 262
262 اطلاع ہوئی اسی وقت آپ از راہ نوازش اپنے ڈرائنگ روم میں تشریف لائے۔بندہ کا خیال تھا کہ چند منٹ کچھ حالات عرض کر کے واپس آجاؤں گا مگر آپ کی ذرہ نوازی دیکھئے کہ جماعت احمد یہ منٹگمری اور ضلع منٹگمری کے حالات اور خاکسار کے ذاتی حالات دریافت فرمائے اور قیمتی ہدایات دیں۔چنانچہ جب کافی وقت گذر گیا تو آپ کی تکلیف کو مد نظر رکھ کر خاکسار نے خود ہی عرض کی کہ اب میں اجازت چاہتا ہوں کیونکہ اس شدید گرمی میں میں نے آپ کو بہت تکلیف دی اور بے آرام کیا ہے۔میر امیہ فقرہ سن کر فرمایا یہ فقرہ سن کر فرمایا ” مجھے تو آپ سے مل کر بہت ہی خوشی ہوتی ۱۰ / فروری ۱۹۶۳ء کو سلسلہ کے کام کی خاطر خاکسار ربوہ گیا۔ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔فرمایا گذشتہ رات جب میں رفع حاجت کے واسطے اُٹھا تو اُٹھتے ہی سر میں چکر آ گیا۔مگر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ گرتے گرتے میرے ہاتھ دیوار سے لگ گئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا۔میں نے عرض کیا کہ میاں صاحب! جب ڈاکٹر آپ کو بار بار مکمل آرام کا مشورہ دیتے ہیں تو آپ آرام کیوں نہیں کرتے۔فرمایا کہ یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ میں خدمت دین سے ہٹ کر آرام کروں۔اس واسطے جب کبھی تھوڑا بہت افاقہ ہوتا ہے تو کچھ خدمت دین کر لیتا ہوں۔پھر آپ نے وہ دوائیں دکھائیں جو آپ استعمال فرما رہے تھے۔چند منٹ علاج کے سلسلہ میں بھی گفتگو ہوئی۔مگر افسوس کہ یہ آپ سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔۶۵ محترم شیخ محمد شریف صاحب مرحوم مالک پرنس ٹرانسپورٹ نے بیان فرمایا کہ: ایک مرتبہ ربوہ جانے کا اتفاق ہوا۔حضرت میاں صاحب بیمار تھے۔آپ نے اطلاع ملنے پر از راہ نوازش خاکسار کو اندر بلالیا۔درد نقرس کی شدید تکلیف کی وجہ سے پاؤں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔چارپائی پر لیٹے ہوئے ہی اشارہ فرمایا کہ کرسی لے کر میرے نزدیک بیٹھ جاؤ۔میں نے حکم کی تعمیل کی۔ابھی میں نے بیمار پرسی کے لئے ایک فقرہ بھی زبان سے نہیں نکالا تھا کہ آپ نے ہمارے خاندان کے ایک ایک فرد کی خیریت پوچھنی شروع کر دی۔میں نے عرض کیا کہ میں نے آج