حیات بشیر — Page 261
261 محترم مولانا غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ محترم چوہدری محمد علی صاحب پروفیسر تعلیم الاسلام کالج سے روایت کرتے ہیں کہ ملنا ہے وہ ایک دفعہ ترجمۃ القرآن کا کام کر رہے تھے۔کام فوری اور ضروری تھا۔دروازہ کے کواڑ بند تھے۔باہر چوکیدار بٹھایا ہوا تھا کہ ایک آدمی ملنے آیا۔چوکیدار نے روکا۔لیکن شمع البشری کا پروانہ کہہ رہا ہے۔تم کون ہو روکنے والے۔میں نے ه تکرار کر رہا تھا۔آواز بلند ہوئی اور حضرت میاں صاحب نے آواز دے کر اندر بلا لیا۔وہ آیا اور جس طرح ایک بیٹا اپنے باپ سے مشورہ لیتا ہے ایک باغ کے پھل خرید کرنے کا میاں صاحب محترم سے مشورہ لیتا رہا اور میاں صاحب اس طرح مشورہ دیتے رہے جس طرح ایک کسان دوسرے کسان سے باہمی مشورہ کرتا ہے اور حضرت میاں صاحب نے اس وقت گفتگو کے سلسلہ کو بند کیا جب اس نے وداع کے لئے مصافحہ کیا۔۶۴ مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب آف منٹگمری فرماتے ہیں : ۱۹۵۹ء میں حج پر جانے سے پیشتر میں آپ کی خدمت میں دعا کروانے اور ہدایات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے دعا کرنے کا بھی وعدہ فرمایا اور کچھ دعائیں بھی لکھ کر دیں۔ساتھ ہی فرمایا کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت پر بہت جلد ایسا وقت آنے والا ہے جبکہ اسے بہت جلد ترقی حاصل ہوگی اور جس طرح سے پہاڑ پر چڑھنے والے شخص کا سانس بھی زیادہ پھولتا ہے اور بلندی پر چڑھنے کی وجہ سے ہر دم پھسلنے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔اسی طرح ترقی کے سلسلہ میں احمدیت پر حالات آنے والے ہیں۔آپ جب حج پر جاویں تو احمدیت کی ترقی اور اس کی حفاظت کے واسطے خاص طور دعائیں کریں۔پر ۳۱ رمئی ۶۲ ء کو ایک عزیز کی وفات پر تعزیت کے سلسلہ میں ربوہ جانے کا اتفاق ہوا۔عزیزوں کے گھر جانے سے پہلے میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی ملاقات کے لئے آپ کی کوٹھی ”البشری“ گیا۔جونہی حضرت صاحبزادہ صاحب کو