حیات بشیر

by Other Authors

Page 253 of 568

حیات بشیر — Page 253

253 محترم ملک محمد عبد اللہ صاحب فاضل کا بیان ہے کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں گذشتہ سال مولانا محمد حنیف صاحب ندوی تشریف لائے۔آپ نے مجلس ارشاد کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں کالج کے طلبا سے خطاب کرنا تھا۔حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ ان دنوں بہت بیمار تھے۔میں نے آپکی خدمت میں لکھا کہ لاہور سے مولانا محمد حنیف صاحب ندوی آئے ہیں۔حضور سے ملاقات کا بھی پروگرام ہے۔اگر کچھ وقت عنایت فرما سکیں تو نوازش ہو گی۔آپ اس قدر بیمار تھے کہ چار پائی سے اُٹھ نہیں سکتے تھے۔مگر آپ نے ملاقات کا وقت دے دیا۔جب ہم ملاقات کیلئے آپ کی کوٹھی ”البشری“ میں پہنچے تو پہلے آپ نے مجھے اندر بلایا اور لیٹے ہوئے فرمایا کہ میری حالت دیکھ لیں۔میں اٹھ نہیں سکتا۔آپ مکرم مولوی صاحب کو بتا دیں کہ میں اس موقعہ پر اکرام ضیف کیلئے کھڑے ہو کر ان کا استقبال نہیں کر سکوں گا۔مجھے معذور سمجھیں۔میں نے باہر آکر محترم مولانا صاحب کی خدمت میں یہ بات عرض کر دی۔ازاں بعد ملاقات ہوئی۔وقت تو ایک دو منٹ ہی تھا مگر ایک علم دوست انسان کو دیکھ کر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے کافی گفتگو فرمائی اور پندرہ منٹ کے قریب ملاقات جاری رہی۔ملاقات کے ختم ہونے پر پھر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے معذرت فرمائی کہ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے اٹھ کر معزز مہمان کو الوداع نہیں کر سکتے۔“ ۵۵ منکسر المزاجی کا یہ حال تھا کہ قادیان کی ایک بوڑھی خاکروبہ سلام کے لئے حاضر ہوئی اور زمین پر بیٹھنے لگی تو آپ نے فرمایا۔اٹھو کرسی پر بیٹھو اور وہ عورت جسے گھر کے ایک خادم کے سامنے بھی کرسی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی اور جس کی ساری عمر خاک میں لتھڑے ہوئے گذری اسے بہ اصرار آپ نے کرسی پر بیٹھایا اور اپنے خادم خاص بشیر سے کہا کہ قادیان سے آئی ہے۔پرانی خادمہ ہے اس کے لئے چائے لاؤ لیکن اس نے یہ کہہ کر کہ ابھی فلاں کے گھر سے چائے پی کر آئی ہوں معذرت پیش کر دی۔پھر آپ بڑی ہمدردی سے کافی دیر تک اس کے حالات پوچھتے رہے۔ذرہ نوازی کی ایسی مثالیں ہر زمانہ میں ہی کم ملتی ہیں۔مگر آج کی دنیا میں تو خصوصاً اخلاق کے یہ دو