حیات بشیر

by Other Authors

Page 231 of 568

حیات بشیر — Page 231

231 کے بعد میری معروضات منظور فرما لیتے آپ گھر کے ہر معاملہ کے متعلق دریافت فرماتے اور اس ٹوہ میں رہتے کہ معلوم کریں کہ انہیں کوئی مالی تنگی تو نہیں۔میں ہمیشہ اطمینان کا اظہار کرتی۔چونکہ ڈاکٹر صاحب قادیان میں درویش تھے اس لئے زمین کی دیکھ بھال مجھے ہی کرنی پڑتی۔مزارعین سے ہر وقت کا واسطہ تھا۔ایک دفعہ فرمایا کہ بتاؤ جب زمین پر جاتی ہو تو برقعہ پہن کر جاتی ہو۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں تو چادر اوڑھ کر جاتی ہوں اور چادر اوڑھے ہی اپنے مزارعین سے کام کرواتی ہوں اس طرح پردہ بھی ہو جاتا ہے اور کام میں بھی آسانی رہتی ہے فرمانے لگے چادر اوڑھ کر دکھاؤ کس قسم کا پردہ کرتی میں نے چادر اوڑھ کر اپنے پردہ کرنے کا طریق دکھایا۔آپ لیٹے ہوئے تھے جوش میں اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ یہی اسلامی پردہ ہے۔مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک ایسے درویش ہیں جن کی طرف سے میں مطمئن ہوں اور ان کے گھر کی طرف سے بھی مطمئن ہوں۔پھر فرمایا ہم زمیندار ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارے گھر کی عورتیں بھی اپنی زمینوں سے ایسا ہی لگاؤ رکھیں۔پارٹیشن کے وقت میری بڑی لڑکی دوسال کی تھی اور چھوٹی لڑکی بعد میں پیدا ہوئی۔دونوں بچیاں اپنے باپ کی شکل سے واقف نہ تھیں حضرت میاں صاحب ان بچیوں سے بڑا پیار فرماتے۔کئی قسم کی چیزیں مٹھائیاں وغیرہ کھلونے، غبارے بچیوں کو دیتے اور بچیاں حضور کو پیچی والے ابا جی کہکر پکارتیں۔آپ یہ نام سن کر خوب ہنستے اور فرماتے۔میرا ایسا نام پہلے کسی بچی نے نہیں رکھا اور بچیوں کو گود میں لے کر پیار کرتے حساس اتنے تھے کہ دوسرے کے متعلق کوئی تکلیف دہ بات سن کر بہت متاثر ہوتے۔ایک مرتبہ میں بیمار ہوئی تو لائکپور کے ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس علاج کے لئے گئی۔جب میں نے ”ڈاکٹر صاحب کہہ کر بات کی تو میری بچی جس کو ہر وقت ابا کی انتظار رہتی تھی چونک پڑی اور کہنے لگی اماں یہ میرے ابا جی ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔کہنے لگی۔ڈاکٹر جو ہیں۔حضرت میاں صاحب یہ واقعہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا۔اے خدا! ان بچیوں کو جلد ان کا باپ دکھا۔آپ کی طبیعت میں مزاح بھی تھا۔ایک مرتبہ اس خط کا جس