حیات بشیر — Page 177
177 بخار کی شدت اور آ پکی وفات کا المناک سانحہ ۳۱ اگست کو آپ کو ۱۰۳ درجہ کے قریب بخار رہا لیکن یکم ستمبر کو ٹمپریچر ۱۰۸ تک پہنچ گیا اور غنودگی زیادہ ہو گئی۔آخر ۲ ستمبر ۶۳ ء شام کو چھ بجگر ۴۸ منٹ پر ۲۳ ریس کورس لاہور میں آپ اس ، عالم جاودانی کی طرف رحلت فرما گئے۔انا لله وانا ليه راجعون۔۵۴۳ جہان فانی غسل میت، جنازہ اور بہشتی مقبرہ میں تدفین آپ کا جنازہ لاہور سے رات کے سوا دس بجے روانہ ہو کر ساڑھے تین بجے رات ربوہ پہنچا۔چار بجے صبح میت کو مولانا جلال الدین صاحب شمس ، محترم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی اور عبداللطیف صاحب شہید نے غسل دیا۔غسل دینے میں مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل، مکرم سید مبارک احمد شاہ صاحب اور مکرم حمید احمد صاحب اختر ابن مکرم عبد الرحیم صاحب مالیر کوٹلوی نے بھی حصہ لیا۔بعد ازاں آپ کی تجہیز و تکفین عمل میں آئی اور پھر چہرہ مبارک کی زیارت کے بعد ساڑھے پانچ بجے شام کوٹھی سے آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔نماز جنازہ بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے پڑھائی۔جس میں قریباً پندرہ ہزار بیرونی اور مقامی احباب شریک ہوئے۔اس کے بعد ساڑھے سات بجے شام بہشتی مقبرہ ربوہ میں حضرت ام المؤمنین نور اللہ مرقدہا کے مزار مقدس کی چاردیواری کے اندر آپ کو سپرد خاک کر دیا گیا۔انا لله وانا اليه راجعون اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل در بیت (حضرت مسیح موعود) النعيم کتاب میں بعض جگہ حکیم عبد اللطیف شاہد کی بجائے حکیم عبد اللطیف شہیڈ لکھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ یہ پہلے اپنے نام کے ساتھ ”شہید لکھا کرتے تھے لیکن بعد میں شہید کی بجائے شاہد لکھنا شروع کر دیا تھا۔