حیات بشیر — Page 120
120 ربوہ کے پتہ پر آنی چاہیے۔۳۰۵ ربوہ سے پہلی تار ۲۰ جنوری اشعہ سے ربوہ میں تار گھر کھل گیا۔اس تار گھر سے ہندوستان میں سب سے پہلی تار حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے قادیان کے امیر جماعت کے نام بھجوائی گئی اور اس کے بعد دوسری تاروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۳۰۹ے نوجوانوں کو دو نصائح مئی 1ء میں جامعہ احمدیہ احمد نگر میں جلسہ تقسیم اسناد منعقد ہوا جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بوجہ علالت شمولیت نہ فرما سکے۔لیکن آپ نے اس موقعہ کے لئے ایک مختصر مگر نہایت قیمتی نوٹ تحریر فرمایا جو مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب نے جلسہ میں پڑھ کر سنا دیا۔آپ نے اس پیغام میں نوجوانوں کو دو نصیحتیں فرمائیں۔اول یہ کہ ان کا علم ایک منجمد پتھر نہ ہو بلکہ ایک ترقی کرنے والی جاندار چیز ہو اور دوسرے ان کے علم کے مجسمہ میں عمل کی روح ہو۔10سے ٹیلیفون پر پہلا پیغام ۲۱ مئی اھم کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں ٹیلیفون آفس کھل گیا۔اسی دن شام کے وقت ربوہ سے قادیان حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے فون کیا گیا۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس پیغام کے لئے مندرجہ ذیل الفاظ لکھ کر ارسال فرمائے۔جماعت کو سلام بیماروں کی عیادت اور دعاؤں کی تحریک“ ۳۱۱ آپ کا ایک الہام جون ۵۱ء میں آپ کو ایک الہام ہوا جسے بعد کے واقعات نے بالکل سچا ثابت کر دیا کہ 66 محمدی اُٹھ تیری سربلندی کا وقت قریب آ گیا ہے ۳۱۲ احادیث کے ایک اور مجموعہ کی تیاری کی خواہش اکتوبر ۵ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ چالیس جواہر پارے“ کا اب دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کے لئے میں اس کی نظر ثانی کر رہا ہوں۔اگر کسی دوست کے خیال میں کوئی مفید مشورہ ہو تو اس سے مجھے مطلع فرمائیں۔اس نوٹ میں آپ نے یہ بھی لکھا کہ میرے مدنظر احادیث کے ایک دوسرے مجموعہ کی تیاری بھی ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر روشنی ڈالنے والی حدیثوں کو جمع کیا جائے گا۔یہ مجموعہ بھی انشاء اللہ چالیس احادیث کا ہوگا۔۳۱۳