حیات بشیر

by Other Authors

Page 111 of 568

حیات بشیر — Page 111

111 فرمائی۔ان میں سے ایک خط خواجہ کمال الدین صاحب کے نام تھا اور باقی حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب پشاوری مرحوم کے نام تھے۔۲۷۷ سفر دہلی ۲۲ ستمبر ۲ ء کو حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دہلی تشریف لے گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، درد صاحب مرحوم اور جناب مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر مرحوم حضور کے ساتھ تھے۔دلی پہنچنے پر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ خود حضور نے بعض سیاسی لیڈروں سے ملنا اور براہ راست تبادلۂ خیالات کرنا ضروری سمجھا۔چنانچہ حضور نے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح، مولانا ابوالکلام آزاد ، گاندھی جی ، نواب صاحب بھوپال، خواجہ ناظم الدین صاحب، سردار عبدالرب صاحب نشتر اور کئی دوسرے لیڈروں سے ملاقات فرمائی۔اس سفر کے دوران حضور کی مساعی کی تمام رپورٹیں خود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب الفضل میں بھجواتے رہے۔دہلی میں تین ہفتہ سے ، زائد قیام فرمانے کے بعد حضور ۱۵ اکتوبر کو واپس قادیان تشریف لے آئے۔تبلیغ ہدایت امن کمیٹی کا قیام دسمبر ۴۶ء میں آپ کی مشہور تصنیف تبلیغ ہدایت“ کا پانچواں ایڈیشن شائع ہوا۔۷۸ے ۲۷ء کے شروع میں جب ہندوستان کے مختلف صوبوں میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے تو قادیان کے ہندو اور سکھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مختلف مقامی قوموں کی ایک مشترکہ امن کمیٹی قائم فرمائی جائے تاکہ قادیان کی فضا فرقہ وارانہ فسادات سے پاک رہے اور پہرے کا بھی انتظام کیا جائے۔چنانچہ ان کی درخواست پر ایک امن کمیٹی بنا دی گئی جس میں سات ممبر احمدیوں کے تھے پانچ ہندوؤں اور سکھوں کے اور چھ غیر احمدیوں کے۔یہ کمیٹی مارچ ۷ء میں قائم ہوئی اور ۱۰ر مارچ کو اس کمیٹی کی طرف سے ایک اشتہار شائع کیا گیا جس کا عنوان یہ تھا کہ ”ہندوؤں مسلمانوں اور سکھوں سے درد مندانہ اپیل“ اس کمیٹی کے سیکرٹری مولوی برکات احمد صاحب مرحوم ناظر امور عامہ تجویز ہوئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنے ایک نوٹ میں اس کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فسادات کے ابتداء میں ہی قادیان میں ایک امن