حیاتِ بقاپوری — Page 63
حیات بقا پوری کہ نیک عورت اور نیک اولا د بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔۲۲ امام مہدی اور مسیح موعود کو نہ ماننے والے 63 جن دنوں میں سندھ میں امیر التبلیغ تھا تو ایک دفعہ کراچی کے دورہ کے اثناء میں میری آنکھ زخمی ہوگئی اور شیخ نیاز محمد صاحب مرحوم انسپکٹرسی۔آئی۔ڈی پولیس مجھے ایک متعصب ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے لے گئے۔اس نے کہا کہ مولوی صاحب آٹھ دس دن دوائی ڈلوائیں تو آنکھ کا زخم درست ہوگا۔چنانچہ اس نے دوائی ڈالی اور چار پانچ منٹ آنکھ بند کرنے کو کہا۔دوسرے دن میں نے شیخ صاحب کو کہا کہ مجھے راستہ تو معلوم ہے میں اکیلا جا کر دو ڈلوا آتا ہوں۔آپ اپنا کام کریں۔جب تیسرا چوتھا دن دوائی ڈالواتے ہو گیا تو ایک دن ڈاکٹر صاحب پوچھنے لگے مولوی صاحب! آپ ہمیں کافر جانتے ہیں یا مسلمان؟ میں نے کہا آپ دوائی تو ڈالیں۔اُس نے کہا نہیں، پہلے آپ میرے سوال کا جواب دیں۔پھر میں دوا ڈالوں گا۔میں نے کہا آپ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی اور سیح نے آنا ہے جب وہ آئے گا تو اس کے نہ ماننے والے کو آپ کیا کہیں گے اور اُسے کیا جانیں گے کا فریا مومن؟ اس نے بلا سوچے سمجھے جلدی سے کہا کہ ہم تو اسے کافر جانتے ہیں۔میں نے کہا کہ چلو اب دوا ڈالو اپنے منہ سے اپنے آپ کو کا فرنہیں کہا کرتے۔ہمارے نزدیک تو حضرت مرزا صاحب وہی امام مہدی اور مسیح موعود ہیں اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے کہ تمام علامات ظاہر ہوگئیں۔تمام نشانیوں کا ظہور ہو چکا اور آدھی صدی (اب تو اسی سال) گذر جانے کے باوجودان کے سوا نہ کوئی آسمان سے اترانہ زمین سے ظاہر ہوا۔اس پر اُس نے بہت پیچ و تاب کھایا اور خاموش ہو گیا اور پھر کبھی کوئی سوال نہ کیا۔( نوٹ : لغوی لحاظ سے تو کسی کو جھٹلانے والا کافر ہی کہلاتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود نے ہمیں (حضرت مسیح موعود اور انکی جماعت کو ) کافر کہنے والوں کو ، ہمو جب حدیث کوئی شخص کسی دوسرے پر فتق اور کفر کی تہمت نہ لگائے کیونکہ اگر وہ شخص فاسق اور کا فرنہیں تو کہنے والے پر یہ کلمہ لوٹے گا کافر کہا ہے۔مرتب) -۲۳ آریہ شانتی سروپ نے اسلام کیوں چھوڑا کاء کا واقعہ ہے کہ امرتسر میں ایک آریہ (جو پہلے مولوی محمدعلی قریشی تھا اور اب اس نے اپنا نام شانتی