حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 347 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 347

حیات بقا پوری 347 ہیں اور انہوں نے پیغام حق پہنچانے میں مجاہدانہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ایسے لوگوں کے حالات ایمان افزاء ہوتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایمانی ترقی کا موجب بنتے ہیں۔اس لیے ایسے بزرگوں کی سوانح حیات کی اشاعت ایک دینی خدمت ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔مجھے حضرت مولوی صاحب سے اپنی ابتدائی زندگی سے واقفیت ہے۔حضرت مولوی صاحب کے میرے والد صاحب مرحوم حضرت میاں امام الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہایت مشفقانہ تعلقات تھے۔اس لیے جب میں قادیان تعلیم کے لیے آیا اور اس وقت میری عمر۱۱ ۱۲۰ سال تھی تو اس دوران میں کئی دفعہ جناب مولوی صاحب نے از راہ شفقت میری حوصلہ افزائی فرمائی۔مکرم مولا نا بقا پوری صاحب نے پنجاب کے گوشہ گوشہ میں احمدیت کی تبلیغ کی ہے اور ایک لمبے عرصہ تک آپ صوبہ سندھ میں انچارج مبلغ رہے ہیں۔اسی لیے آپ نے سندھی زبان بھی سیکھی ہے۔آپ بفضل تعالیٰ سندھی میں عمدہ تقریر فرماتے ہیں۔میرے تبلیغی زمانہ کے اوائل یعنی ۲۸ ۱۹۲۷ء کی بات ہے کہ میں اور اخویم مکرم مولوی قمر الدین صاحب فاضل سندھ کے دورہ پر بھیجے گئے۔چونکہ حضرت مولوی بقا پوری صاحب انچارج تبلیغ صوبہ سندھ تھے۔اس لیے یہ دورہ ہم نے ان کی معیت میں کیا۔سکھر سے لے کر زبرین اور بالائی سندھ میں جس جگہ ہمیں جانے کا اتفاق ہوا میں نے ہر جگہ محسوس کیا کہ احمدیوں میں خصوصاً اور غیر احمدیوں میں عموماً مولا نا بقا پوری صاحب کے لیے نہایت محبت و احترام کے جذبات موجود تھے اور ہر جگہ لوگ ان کی نیکی اور تقوے کے قائل تھے۔تبلیغ کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور جس طرح کے ہمدردانہ تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ وہ ماحول اور وہ تعلقات جناب مولوی صاحب نے پیدا کر رکھے تھے۔شہروں اور دیہات میں ہر جگہ یہ امر نظر آ رہا تھا کہ مولوی بقا پوری صاحب نے اپنے فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا فرمایا ہے۔میں اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس دورہ میں مولوی صاحب موصوف نے ہمارے ساتھ بھی نہایت مشفقانہ سلوک کیا تھا۔جزاہ اللہ خیراً۔سکھر میں غیر احمدیوں کی انجمن نے ہماری تقاریر کا انتظام کیا تھا۔اور تین دن تک یہ جلسے نہایت دھوم دھام سے ہوتے رہے اور ہزاروں لوگ راتوں کو بیٹھ کر تقریریں سنتے رہے اور یہ سب کچھ مولانا بقا پوری صاحب کے حسن تدبر کا سندھ کے دیہات میں جب ہم جاتے تھے تو اس موقعہ پر ہر جگہ جلسہ کا انتظام کیا جاتا۔ان جلسوں میں ہم اگر چہ اردو میں تقریر کرتے تھے جسے بالعموم سمجھا جاتا تھا مگر حضرت مولوی صاحب سندھی میں تقریریں کرتے تھے اور