حیاتِ بقاپوری — Page 310
حیات بقاپوری 310 انہوں نے کہا۔اب ہم تو جارہے ہیں۔اور ہمارے ذریعے ہی چندہ آتا تھا۔خزانے میں اب کچھ آنے پائیاں ہی ہیں گرانٹ بند ہو جائیگی۔اب یہاں عیسائی آئیں گے اور اپنا مشن چلائیں گے۔غرض یہ لوگ بڑے وثوق سے کہتے تھے کہ اب یہ قادیان والے برباد ہو جائیں گے۔ان کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ان دنوں خواجہ کمال الدین صاحب لندن میں مقیم تھے وہ پیغام ملح والوں کی طرف سے وہاں مبلغ مقرر تھے۔اور انصار اللہ کی طرف سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال مقرر تھے۔لیکن ادھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو پورا پورا یقین اس سلسلہ کی ترقی پر تھا جو مندرجہ ذیل عبارت سے ثابت ہوتا ہے۔جبکہ سلسلہ احمد یہ ایک نہایت نازک دور میں سے گذر رہا تھا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے ایک دو مہینہ بعد آپ نے یہ اعلان جاری کیا جو آپ کے اللہ تعالے پر پورا پورا بھروسہ اور کامل تو کل کی شہادت دیتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اید و اللہ تعالے کا اعلان شکریہ جماعت کے نام غموں کا ایک دن اور چار شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الا ادی یہ اعلان شکریہ کا تب کو دینے سے پہلے میں نے عصر کے بعد درس قرآن کے وقت جماعت قادیان کو سنا دیا تھا تا وہ بھی اس تحریک میں حصہ لینے کے لئے تیار ہو جائیں۔سو اللہ تعالے نے قادیان کی غریب جماعت کے دلوں میں وہ اخلاص اور جوش بھر دیا اور اُن کے دل اپنے خالق اور رازق کے نام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایسے بے تاب ہو گئے کہ دوسرے دن ہی جمعہ کی نماز کے بعد انہوں نے ایک عام جلسہ کیا اور تین ہزار روپیہ کے قریب چندہ کے وعدے لکھوائے گئے۔اور ابھی تک برابر کوشش ہو رہی ہے۔اور قادیان کے دوست چاہتے ہیں کہ اول تو میری اعلان کردہ رقم یعنی بارہ ہزار روپیہ گل کا اگل ضلع گورداسپور کی طرف سے پیش کیا جائے یا کم از کم نصف یعنی چھ ہزار تو ضرور وہ مہیا کریں۔اور میں اللہ تعالٰے پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان کی کوششوں کو بار آور فرمائے گا۔اور وہ دونوں رقموں میں سے ایک کو ضرور جمع کر لینگے۔اس وقت تک پانچ سو روپیہ سے زائد وصول بھی ہو چکا ہے اور ہر روز چندہ میں ترقی ہو رہی ہے۔قادیان کی غریب جماعت کا یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اس