حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 311 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 311

حیات بقا پوری 311 نمونہ پر چلیں گی۔میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں نے اپنی گل کی محل زمین تبلیغ اسلام کے لئے دے دی۔اور بعض نے اپنا گل اندوختہ اس کام کے لئے نذر کر دیا۔میں اس ایثار کو دیکھ کر اس بات سے باز نہیں رہ سکتا کہ اپنے مولا کا پھر شکر یہ ادا کروں جس نے اپنے فضل سے میری تحریر میں اس قدر اثر رکھا کہ ابھی وہ شائع بھی نہیں ہوئی کہ مطلوبہ رقم کے چوتھائی حصہ کے وعدے پہلے ہی ہو گئے اور صرف ایک ضلع کے لوگ اس کو پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اور پھر اس کام کے کرنے والی وہ جماعت ہے جسکی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ روٹیوں کے لئے قادیان میں آپڑے ہیں۔کاش اس ایثار کے لوگ اور بھی کثرت سے ہوں تا سلسلہ احمدیہ جلد جلد ترقی کی شاہراہ پر قدم مارے۔میرے پیارے رب نے اس وقت مجھے ایک سبق دیا ہے اور وہ یہ کہ میں نے جماعت کے فتنہ کو دیکھ کر خوف کیا تھا کہ بارہ ہزار روپیہ بھی وہ دے سکے گی یا نہیں۔مگر اللہ تعالے نے مجھے بتایا کہ جب اس کام کے ہم ذمہ دار ہیں تو فتنہ کا ہونا یا نہ ہونا کیا اثر رکھتا ہے۔بعض لوگوں نے کہا تھا کہ ہم چندہ بند کر دیں گے۔اور خود بخود یہ سب کام آپ بند ہو جائیں گے۔اور بعض نے اعلان کر بھی دیا کہ قادیان میں کوئی چندہ نہ بھیجا جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کا جھوٹ ثابت کرے اور وہ ہمیں اپنی بے انتہاء قدرت کا ایک روشن نشان دکھانا چاہتا ہے۔مبارک وہ جو اس سے فائدہ اٹھائے۔دنیاوی حکومتوں کی ساکھ اُن کے قرضہ سے پتہ لگتی ہے۔کیونکہ جب ان میں ضعف پیدا ہو جائے تو ان کو قرضہ مشکل سے ملتا ہے لیکن جب وہ طاقت ور ہوں تو وہ اگر ایک کروڑ کا اعلان کرتی ہیں تو اُن کے دس کروڑ روپیہ دینے کو لوگ تیار ہو جاتے ہیں۔اور اُس وقت بھی جب کہ اس الہی سلسلہ کی ساکھ پر لوگ معترض تھے اور کہتے تھے کہ اب یہ سلسلہ گیا۔اور بعض اپنے لوگ ہی اس بات کے مدعی تھے کہ ہمارے علیحدہ ہوتے ہی سب کام تباہ ہو جائے گا۔خدا تعالے اس جماعت کی ساکھ قائم کرنا چاہتا ہے۔اور اس غریب جماعت کے ہاتھوں سے جسے نادان اور جاہل اور کم فہم کہہ کر ہنسی اور ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔اپنی شان دکھانی چاہتا ہے۔اور مجھے اللہ تعالے سے امید ہے کہ وہ جماعت کے دلوں میں تحریک کر دیگا اور میری اعلان کردہ رقم سے بھی پانچ چھ گنا زیادہ روپیہ فراہم کر دے گا۔اور میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ زائد رقم سے ہم تبلیغ کے کام کو اور بھی زیادہ وسیع پیمانہ پر جاری کریں اور اسے غیر مترقبہ ضروریات کے لئے علیحدہ کر دیں۔اور آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ بارہ ہزار روپیہ سالانہ سے بھی زیادہ کا انتظام بغیر کسی زائد بوجھ کے ہو جائے گا۔مگر میں اس امر کی تفصیل کہ کس طرح چندوں میں سے یہ کام بھی پورا ہو