حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 291 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 291

حیات بقاپوری 291 خفا ہوئے اور فر مایا کہ تم ملاں لوگوں کی طرح باتیں کرتے ہو۔میں خاموش ہو رہا اور حضور کے چہرہ پر ایک دودن اس کا اثر بھی رہا۔حسن اتفاق سے ہفتہ عشرہ ہی گزرا ہوگا کہ حضرت قاضی امیر حسین صاحب مرحوم و مغفور کے سامنے حضرت خلیفہ اول نے انہیں لاہوری حضرات کا ایک نیا شگوفہ سُنا کر اظہار افسوس کیا اور فرمایا یہ منافقوں کا فتنہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔حضرت قاضی صاحب ایک تو بھیرہ کے رہنے والے حضور کے ہم وطن تھے۔ہم عمر تھے۔اور میری نسبت اُن سے زیادہ بے تکلف تھے اور جرات بھی مجھ سے زیادہ رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اول سے کہنے لگے اوئے نیک بخت خدا نے جیہڑا تینوں خاص اختیار دیتا اے اوہنوں کیوں نہیں ورند۔یعنی جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے خاص اختیار دیا ہے اُسے استعمال میں کیوں نہیں لاتے۔غرض اس طرح کی باتیں ہوتی رہتی تھیں اور حضرت خلیفہ اول کو اس بات کا بڑا غم تھا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔چنانچہ ایک دن حضرت خلیفہ اول نے خواجہ صاحب کو فرمایا کہ خواجہ صاحب میاں محمود سے تم دشمنی چھوڑ دو۔اگر تم جیت بھی گئے تب بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔یزید نے امام حسین کو شہید کر کے بھی کچھ نہ پایا۔حضرت خلیفہ اول نے جولائی ۱۹۱۳ء میں احمد یہ بلڈ نکس لاہور کی مسجد میں جو تقریر فرمائی اس میں میں بھی موجود تھا اور مجھے آج تک وہ الفاظ یاد ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: میں اس مسجد میں قرآن مجید ہاتھ میں لے کر اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پیر بننے کی ہرگز خواہش نہیں اور نہ تھی خدا تعالے کے منشاء کو کون جان سکتا ہے۔اس نے جو چاہا کیا تم سب کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا۔اور اس نے آپ ، نہ تم میں سے کسی نے ، مجھ کو خلافت کا کرتہ پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔باوجود اس کے میں تمہارے مال اور تمہاری کسی بات کا بھی روادار نہیں۔اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا نہیں۔تمہارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا۔اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی صاحب کو دے دیا کرتا تھا۔مگر کسی نے اس کو غلطی میں ڈالا اور اس نے کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔تب میں نے خدا کی رضا کے لئے اس روپیہ کو دینا بند کر دیا کہ میں دیکھوں یہ کیا کر سکتے ہیں۔ایسا کہنے والے نے غلطی کی نہیں بے ادبی کی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کرلے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ