حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 290 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 290

حیات بقا پوری 290 جب ہفتہ عشرہ تک فتوی آگیا تو حضرت خلیفہ اسح اول نے اس جنوری 19ء کا دن مقر فرما کر مختلف جماعتوں سے نمائندگان بلائے۔فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں حضرت خلیفہ اسی اول نے سورہ بروج تلاوت فرمائی اور جب آیت إِن الذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ۔پڑھی تو سب پر رقت طاری ہوگئی۔نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول تو گھر چلے گئے اور حضرت میر ناصر نواب صاحب کو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آپ کے صاحبزادہ نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا تب یہ بات پیدا ہوئی۔لیکن حضرت نانا جان یہی کہتے تھے کہ اچھا ہوا اس طرح بات صاف ہو جاوے گی۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کسی قسم کی ہے۔صبح کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر حضرت خلیفہ اسیح اول نے تقریرفرمائی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ انجمن میری تابع ہے اور جو خلافت انجمن کے تابع ہو میں اُس پر تھوکتا بھی نہیں اور جو سمجھتا ہے کہ خلیفہ انجمن کے تابع ہے یا ہونا چاہیے اس کی بیعت ٹوٹ گئی۔حضور نے اسی تسلسل میں بعض اشخاص کے نام لے کر فرمایا کہ اُن کی بیعت ٹوٹ گئی ہے وہ دوبارہ بیعت کریں مجھے یاد ہے مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کا نام حضور نے لیا تھا۔چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی تھی۔اس کے بعد لوگوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ خلیفہ کے مقابلے میں انجمن کی پوزیشن کیا ہے۔لیکن تعجب که حضرت مولوی سرور شاہ صاحب مرحوم نے مجھے بتلایا کہ جب یہ لوگ دوبارہ بیعت کرنے کے بعد روتے ہوئے مسجد مبارک کی چھت سے نیچے مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھڑی میں آئے اور میں اُن کو عربی پڑھانے کے لیے آیا تو خواجہ صاحب بھی نیچے اترے کہنے لگے کہ آج تو اس بڑھے نے ہمیں بڑا بے عزت کیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کہنے لگے میں تو یہاں نہیں رہوں گا لاہور چلا جاؤں گا۔خواجہ صاحب نے کہا چپ رہو کام تو ہم نے ہی کرنا ہے وغیرہ۔۔لیکن خلافت اور انجمن کا یہ اختلاف بجائے گھٹنے کے بڑھتا ہی گیا جیسا کہ سلسلہ کے اخبارات سے واضح ہے۔ایک دفعہ میں بھی حضرت خلیفہ اسیج اول کی خدمت میں چندلوگوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ حضور نے ان بعض افراد کی کمزوریاں جو خلاف حق تھیں اور فتنہ پیدا کرنے کا موجب تھیں ذکر کیا اور اس پر اظہار افسوس کیا تو میں نے جرات کر کے عرض کی کہ حضور ایسے لوگوں کو جماعت سے نکال کیوں نہیں دیتے تا کہ فتنہ دور ہو جائے۔اس پر حضور