حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 264 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 264

حیات بقا پوری 264 کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہ حالت تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قد رفتا ہو چکے تھے۔آپ اسی تنہائی میں پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں نہ کوئی آرام اور نہ راحت کا سامان ہوتا۔اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو۔آپ وہاں کئی راتیں تنہا گزارتے تھے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے۔کہ آپ کیسے شجاع اور بہادر تھے۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو۔تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے۔اس لئے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔اہل دنیا نیز دل ہوتے ہیں۔ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی۔(الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۵ء) ۱۰۳۔نام بلانے میں مشخص مراد ہوتا ہے نہ کہ وصفی معنی:۔کسی لڑکی کا نام جنت تھا۔کسی شخص نے کہا یہ نام اچھا نہیں ہے۔کیونکہ بعض وقت انسان آواز دیتا ہے۔کہ جنت گھر میں ہے۔اور اگر وہ نہ ہوتو گویا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے۔یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہا جائے کہ گھر میں برکت نہیں۔تو گویا نحوست ہوئی۔فرمایا۔یہ بات نہیں ہے۔نام رکھنے سے کوئی حرج نہیں ہوتا۔اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اندر نہیں ہے نہ کہ یہ برکت نہیں۔یا اگر کہے۔جنت نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت نہیں اور دوزخ ہے کسی اور نے کہا۔کہ حدیث میں بھی حرمت آئی ہے۔فرمایا۔کہ میں ایسی حدیثوں کو ٹھیک نہیں جانتا۔اور ایسی حدیثوں سے اسلام پر اعتراض ہوتا ہے۔کیونکہ خدا کے بتائے ہوئے نام عبداللہ عبدالرحیم عبدالرحمن جو ہیں۔ان پر بھی بات لگ سکتی ہے۔کیونکہ جب ایک انسان کہتا ہے۔کہ عبدالرحمن اندر نہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا۔کہ عبد الشیطان اندر ہے۔بلکہ یہ کہ وہ شخص جس کا نام عبدالرحمن ہے۔وہ نہیں ہے۔کیونکہ ایسے نام نیک فال کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔تاوہ شخص اس نام کے مطابق ہو (الحکم ۲۱ مارچ ۱۹۷ء)