حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 265 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 265

حیات بقا پوری 265 ۱۰۴۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکتوب حضرت حکیم الامت کے نام:۔مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ دوروز سے میں نے شخص معلوم کے لئے توجہ کرنا شروع کیا تھا۔مگر افسوس کہ اس عرصہ میں میرے گھر کے لوگ یک سخت دفعہ علیل ہو گئے۔یعنی تیز تپ ہو گیا۔جس کی وجہ سے مجھے ان کی طرف توجہ کرنی پڑی۔کل ارادہ ہے کہ ان کو مسہل دوں۔بعد ان کی صحت کے پھر توجہ میں مصروف ہوں گے۔اب مجھے محض آپ کے لئے اس طرف بشدت خیال ہے۔اگر چہ مجھے صحت کامل نہیں۔تا ہم افاقہ ہے۔آپ نے جو فتح محمد کے ہاتھ دوا بھیجی تھی۔وہی کھاتا رہا ہوں۔معلوم ہوتا ہے۔واللہ علم کہ اس دوانے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔پیراند تا کے ہاتھ کوئی دوائی نہیں پہنچی۔اور پیراند تا کہتا ہے۔کہ مجھے مولوی صاحب موصوف نے کوئی دوا نہیں دی ہے۔یعنی اس عاجز کیلئے آپ نے جو کچھ لکھا تھا۔کہ پیراند تا کے ہاتھ دوا بھیجی ہے۔شاید یہ غلطی سے لکھا گیا ہو۔میر عباس علی شاہ صاحب قادیان میں آپ کی دوا کے منتظر ہیں۔براہ مہربانی ضرور توجہ فرما کر دوا بھیج دیں۔آپ کو یہ عاجز دعا میں یا درکھتا ہے۔اور امید وار اثر ہے۔گو کس قدر دیر کے بعد ہو۔انسان کے دل پر آزمائش کے طور پر کئی قسم کی حالتیں وارد ہوتی رہتی ہیں۔آخر خدا تعالیٰ سعید روح کی کمزوری کو دور کر دیتا ہے۔اور پاکیزگی اور نیکی کی قوت بطور موہبت عطا فرما دیتا ہے۔پھر اس کی نظر میں سب باتیں مکروہ ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہوتی ہیں۔اور وہ سب راہیں پیاری ہو جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پیاری ہوتی ہیں۔تب اس کو ایک ایسی طاقت ملتی ہے۔جس کے بعد ضعف نہیں۔اور ایک ایسا جوش عطا ہوتا ہے۔جس کے بعد کسل نہیں۔اور ایسی تقویت دی جاتی ہے۔جس کے بعد معصیت نہیں۔اور رب کریم ایسا راضی ہوتا ہے۔جس کے بعد سخط نہیں۔مگر یہ نعمت دیر کے بعد عطا ہوتی ہے۔اول اول انسان اپنی کمزوریوں سے بہت سی ٹھو کریں کھاتا ہے۔اور اسفل کی طرف گرتا ہے۔مگر آخر اس کو صادق پا کر طاقت بالا کھینچ لیتی ہے۔اس کی طرف اشارہ ہے۔جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا ا نثبتهم على التقوى والايمان ولنهد ينهم سبل المحبة والعرفان وسنريهم لفعل الخيرات وترك العصيان (الحکم کے جولائی ۱۹۰۳ء)