حیاتِ بقاپوری — Page 240
حیات بقاپوری 240 تین روپے کے چار روپے وصول کئے جائیں گے۔یہ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔اس کا جواب حضرت صاحب نے مندرجہ ذیل لکھا:۔السلام علیکم! میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں۔مالک کا اختیار ہے کہ جو چاہے قیمت طلب کرے۔خاص کر بعد کی وصولی میں حرج بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اخبار لیتا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے یہ امر خود اُس کے اختیار میں ہے۔والسلام مرزا غلام احمد (۱۴ فروری ۱۹۰۷ء) ۴۳۔جان کے خوف میں والدین کی فرمانبرداری:۔مدت سے ایک افغان ایک ایسے علاقے کا رہنے والا جہاں اپنے عقیدہ و ایمان کا اظہار موجب قتل ہو سکتا ہے اس جگہ قادیان میں دینی تعلیم کے واسطے آیا ہوا ہے۔حال ہی میں اُس کے والدین نے اس کو اپنے وطن میں طلب کیا ہے۔اب اُس کو ایک مشکل پیش آتی ہے کہ اگر وطن کو جائے تو خوف ہے کہ مبادا وہاں کے لوگ اس بات سے اطلاع پا کر کہ یہ شخص خونی مہدی اور جہاد کا منکر ہے قتل کے درپے ہوں اور اگر نہ جاوے تو والدین کی نافرمانی ہوتی ہے۔پس اُس نے حضرت سے پوچھا کہ ایسی حالت میں کیا کروں۔حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔چونکہ در قرآن شریف در ال امور که مخالف شریعت نباشند حکم اطاعت والدین است لہذا بہتر است که این قدر اطاعت کنند که همراه شان روند - در آنجا چو محسوس شود که اندیشه قتل یا حبس است - بلا توقف باز بیائند - چرا که خودر اور معرض ہلاک انداختن جائز نیست۔ہم چنیں مخالفت والدین ہم جائز نیست پس دریں صورت ہر دو حکم قرآن شریف سجا آورده می شود - مرزا غلام احمد ( بدر ۱۴ فروری ۱۹۰۷ء) ۴۴ قرض پر زکوة:- ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرض دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو زکوۃ دینی لازم ہے؟ فرمایا نہیں۔( بدر ۱۴ فروری ۱۹۰۷ء)