حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 138 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 138

حیات بقا پوری 138 ہے۔اس کو نماز تراویح کہتے ہیں۔کیونکہ تراویح کے معنے آرام کے ہیں۔یہ نماز بہت لمبی پڑھی جاتی ہے اور خصوصاً رمضان شریف میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری ساری رات گیارہ رکعت پڑھنے میں ہی گزار دیتے تھے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نماز تراویح تو حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں پڑھی گئی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑھی ہے تو پھر یہ رسولی سنت ہوئی نہ کہ حضرت عمر کی؟ میں نے اس پر مفصل روشنی ڈالی اور کہا کہ صحاح ستہ میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تینسیوں رات رمضان شریف کو نماز عشاء کے بعد نماز تراویح پڑھائی جس میں رات کا تیسرا حصہ قیام فرمایا۔پھر پچیسویں رمضان کو عشاء کے بعد نماز تراویح پڑھائی اور اس میں دو تہائی حصہ رات کا قیام فرمایا۔اور پھر تیسری دفعہ ستائیسویں رات کو تراویح پڑھائی اور ساری رات قیام فرمایا۔پھر جب انیسویں رات کو نماز پڑھنے کے لئے لوگ آئے تو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم اپنے اعتکاف کی جگہ سے باہر تشریف نہ لائے۔صبح کو آپ نے فرمایا کہ میں رات کو اس لئے باہر نہیں آیا تھا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے ہی تراویح پڑھی جاتی ہے۔یہ نا واقف لوگوں کا قول ہے کہ نماز تراویح رواج ہے یا محض حضرت عمر کی سنت ہے۔۲۔شادی غمی میں برادری سے تعاون اور مولویوں کی زبوں حالت ایک مجلس میں ایک مولوی صاحب آج کل کے صوفیوں کی مذمت کر رہے تھے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی طرف سے نئی نئی قسم کے درد و وظائف مقرر کر لئے ہیں اور اسی طرح قوم کے امراء نے بھی دینی کاموں میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے۔حتی کہ بجائے غرباء کی امداد کرنے کے اُن پر ظلم و تشدد کرتے ہیں۔میں نے کہا، آپ اپنے گروہ علماء کا بھی ذکر کریں۔بعض سامعین مسکرائے اور مولوی صاحب نے بھی دبی زبان سے کہہ دیا کہ مولویوں کی تو ایسی بڑی حالت ہوگئی ہے۔کہ اُن کے متعلق مشہور فقرہ ہے کہ مولوی جو کہیں وہ کرو اور جو کریں وہ نہ کرو۔میں نے کہا مولوی صاحب اور اے سامعین دوستو! خدا کے لئے سوچو کہ جب علماء جو دین کے لئے بمنزلہ دماغ کے تھے اور صوفی جو بمنزلہ دل کے تھے اور امراء جو بمنزلہ جگر کے تھے۔یہ تینوں ہی بگڑ گئے اور بیمار ہو گئے۔اور دین اسلام کی پیروی کرنی کرانی چھوڑ دی تو کیا اب بھی امام مہدی اور مسیح موعود کے آنے کا وقت نہیں آیا ؟ اس کی مثال تو یوں سمجھو کہ ایک شخص ہے جس کا دل، جگر اور دماغ تینوں اعضاء رئیسہ خراب ہو چکے ہیں اور اُس کا بیٹا باپ کے