حیاتِ بقاپوری — Page 137
حیات بقاپوری 137 ا۔مسائل دینیہ تبلیغی واقعات کے رنگ میں نماز تراویح سنت نبوی ہے 1919ء کا واقعہ ہے کہ میں رمضان شریف میں وزیر آبادریلوے اسٹیشن سے ریل پر سوار ہوا۔جس ڈبہ میں میں بیٹھا تھا اس میں ایک حنفی مولوی اور ایک شیعہ ذاکر صاحب بھی تھے۔ذاکر صاحب نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ مسافر کے لئے نماز کی تو قصر کی گئی ہے مگر رمضان شریف کے روزہ کی قصر نہیں کی گئی۔اس کی کیا وجہ ہے؟ مولوی صاحب نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔میں نے کہا کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ قرضدار کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے قرض خواہ دو طرح کی رعایت کرتا ہے۔یا تو کہتا ہے کہ دس روپے کی بجائے مجھے پانچ ور پے ہی دے دو لیکن دے دوا بھی۔یا کہتا ہے۔کہ پورے دس کے دس ہی دو مگر بجائے یکمشت دینے کے سال بھر میں باقساط آسانی سے دے دو۔یہی دو قسم کی رعائتیں خدا تعالیٰ نے نماز اور روزہ میں مسلمانوں کو دی ہیں۔پہلی قسم کی رعایت نمازوں میں عطا فرمائی اور دوسری قسم کی رعایت روزوں میں دی۔ذاکر صاحب بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ احمدی جماعت میں سے معلوم ہوتے ہیں۔میں نے کہا ہاں یہ سب فیوض و برکات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں ہی حاصل ہوئے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا میں مرزا صاحب کی زندگی میں قادیان گیا تھا۔اور اب بھی کبھی کبھی جاتا ہوں۔جب میں پہلی دفعہ ۱۹۰۵ء میں گیا تو رمضان شریف کا مہینہ تھا۔میں نے دیکھا صبح سب کا روزہ تھا۔کوئی کھاتا پیتا مجھے نظر نہ آیا۔رات کو بڑی مسجد میں جس میں مرزا صاحب کے والد صاحب کی قبر ہے نماز تراویح کے لئے گیا تو ایک حافظ صاحب نے جن کا نام روشن علی تھا نماز تر او کے پڑھائی۔چار رکعتیں پڑھائی کے بعد وہ اتنی دیر بیٹھے جتنا وقت چار رکعت پڑھانے میں لگا۔میں نے کہا کہ آپ نے پھر بیعت کیوں نہ کی؟ کہنے لگے اُس وقت مجھے یہ بُرا لگا کہ انہوں نے اہل حدیث کی طرح آٹھ رکعت تراویح پڑھی ہے۔حالانکہ ہمیں رکعت تراویح ہے۔میں نے کہا کہ آپ کو یہ معلوم نہیں کہ نماز تراویح کوئی علیحدہ نماز نہیں۔بلکہ تہجد کی نماز ہی ہے جو رمضان شریف میں اول رات پڑھی جاتی