حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 89 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 89

حیات بقا پوری 89 ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں مانگی۔اگر مانگی ہے تو تم اس کا ثبوت دکھلاؤ۔دو کو ٹھے کتابوں کے تمہارے پاس بھرے ہوئے ہیں کیا تم ثبوت نہیں دے سکتے ؟ وہ خان جب اس طور سے اپنے مولوی پر برافروختہ ہوا تو میں نے کہا کہ خان صاحب مولوی صاحب پر غصہ ہونا بے فائدہ ہے۔میں خود بھی مولوی ہوں اور ہم لوگ بھی اسی طرح ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگا کرتے تھے۔لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانہ کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شناخت کرنے کی توفیق دی جن کے فیض صحبت سے ہمیں اسرار شریعت کے متعلق بصیرت حاصل ہوئی اور ہزاروں دقیق امور ہم پر منکشف ہو گئے۔یہ گتھی بھی حضور کے کلام کی برکت سے سلجھ گئی۔حضور سے ہی میں نے سُنا کہ نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا نہ تو کبھی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں خلفاء نے اور نہ ہی چاروں اماموں نے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے متعلقہ کتابیں چھان ماریں اور واقعی ہاتھ اٹھا کر دعامانگنے کا کوئی ثبوت نہ ملا۔یہ مولوی صاحب بھی اگر کتابوں کو دیکھیں گے تو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ ہاتھ اُٹھا کر دعامانگنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ بدعت ہے۔اس پر خان کہنے لگا دعا مانگتا تو اچھا فعل ہے۔آپ اُسے بدعت کس طرح قرار دیتے ہیں۔اس پر میں نے خان صاحب کو بتلایا کہ انسان جب نماز میں ہوتا ہے تو اسکی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی بادشاہ کے دربار میں کھڑا ہو اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ جو کچھ مانگتا ہے اُسی وقت مانگے۔جب وہ السلام علیکم کہہ کر نماز ختم کر دیتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے دربار سے باہر آجاتا ہے۔اُس وقت دعا مانگنا اسی طرح بے معنی ہے جس طرح دنیوی بادشاہ کے دربار سے باہر آکر کوئی شخص اپنی معروضات پیش کرنا شروع کر دے۔نیز یہ عادت اختیار کرنے سے نماز کے دوران میں دعا مانگنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔خان کو یہ بات سمجھ آگئی اور وہ کہنے لگا کہ واقعی اس صورت میں تو ایسا کرنا بری بات ہے۔الغرض خان میری باتوں سے متاثر ہوا اور اس نے اپنے گاؤں میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہماری تقریر کرائی۔۷ ردوا اید یکم فی افواہہم کا نظارہ 199ء کا واقعہ ہے کہ قادیان سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہزارہ کے علاقہ مانسہرہ، دیگر اں اور دانہ میں تبلیغ کے لیے گئے۔وہاں پر شیخ نور احمد صاحب وکیل دھرم کوٹ رند ہوا اور مولوی محمد بیچی صاحب آف دیگراں اور مولاناسید سرور شاہ صاحب کے ایک پھوپھی زاد بھائی