حیاتِ بقاپوری — Page 57
حیات بقاپوری لگے ارے یہ بھی کوئی لیاقت کا معیار ہے جسے تو پیش کرتا ہے۔-۱۵ خلیفہ وقت کی امر بالمعروف میں تابعداری 57 غالباً 1919ء کا ذکر ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب ولایت سے آئے تو میں جلسہ سالانہ پر جاتے ہوئے اُن سے لاہور میں ملا۔باتوں باتوں میں وہ کہنے لگے کہ میں تو میاں صاحب کے ہر امر بالمعروف میں تابعداری اور اطاعت کرنے کو تیار ہوں۔میں نے کہا امر بالمعروف کے معنے آپ کیا لیتے ہیں۔کیا ان سے کوئی امر بالمنکر بھی صادر ہوتا ہے؟ اگر اس کے معنے وہ ہیں جو آپ نے سمجھے ہیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ ارشاد خداوندی قرآن کریم میں مذکور ہے وَلَا يَعْصِینَكَ فِی مَعْرُوفٍ (۱۳:۲۰ ) تو کیا اس سے یہ مراد لیا جائے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امر بالمتر بھی کرتے تھے اور عورتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو امر بالمعروف کریں اس کی تو وہ اطاعت کریں اور امر بالمنکر کا انکار کر دیں۔حالانکہ اس کا یہ مطلب ہی نہیں۔اس آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ خدا کے نبی اور رسول اور اُن کے خلفاء صرف امر بالمعروف ہی کرتے ہیں۔۱۶۔نبوت پر مباہلے کی دعوت ۱۹۱۵ء کا ہی واقعہ ہے کہ ایک بار کیمل پور میں حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی سے جب وہ غیر مبایعین کے مبلغ تھے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جب آپ لوگوں کو مباہلہ کے لیے بلاتے ہیں تو مولوی محمد علی صاحب کیوں مباہلہ نہیں کر لیتے ؟ اس پر حکیم مرہم عیسی کہنے لگے کہ کیا آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ نبی کے بغیر کوئی مباہلہ کا چیلنج نہیں دے سکتا نہ نبی کے بغیر کوئی مباہلہ کر سکتا ہے۔میں نے کہا اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام واقعی نبی تھے اور آپ نے اُن کا نبی ہونا خود تسلیم کر لیا۔کیونکہ حضرت اقدس نے اپنے مخالفین کو مباہلہ کے لیے بار ہا بلایا اور مباہلے بھی کئے اور ان مباہلوں کے نتیجہ میں کئی مخالف آپ کی زندگی میں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہلاک بھی ہوئے جیسے غلام دستگیر قصوری۔محمد اسمعیل علی گڑھی۔عبدالرحمن لکھو کے لیکھرام آریہ۔ڈاکٹر ڈوئی امریکن وغیرہ وغیرہ۔