حیاتِ بقاپوری — Page 39
حیات بقاپوری۔مولوی ثناء اللہ سے صداقات مسیح موعود پر بحث 39 جن دنوں راجہ علی محمد صاحب جو بعد میں مال افسر ہو کر ریٹائر ہوئے ہوشیار پور میں صدر قانونگو تھے۔وہاں پر اہلحدیثوں نے اپنے جلسہ کا اہتمام کیا اور احمدیوں کے ساتھ مناظرہ بھی قرار پایا۔اہلحد بیٹوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرت سر سے بلایا۔اُن دنوں میں میری تعیناتی امرت سر میں تھی۔مرکز نے راجہ صاحب کی درخواست پر مجھے وہاں پہنچنے کا حکم دیا۔جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ مباحثہ کا اعلان سن کر ارد گر دینگہ وغیرہ کی احمدی جماعتیں بھی جمع ہو گئی ہیں۔مناظرہ کے اثناء میں ہماری طرف سے ماسٹر قادر بخش صاحب والد ماجد مولوی عبد الرحیم صاحب درد پریزیڈنٹ تھے اور غیر احمدیوں کی طرف سے صدر وہاں کا ایک مولوی تھا۔اور ان دونوں پر بطور ثالث ایک ہندوستانی متعین ہوا۔مباحثہ کا موضوع صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اثبات تھا جس میں مدعی ہونے کی وجہ سے پہلی تقریر میری تھی۔میں نے اپنی تقریر میں تین آیات قرآنی حضرت اقدس کی صداقت میں پیش کیں اور مکر رسہ کر انکو حاضرین کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی۔اور آدھ گھنٹہ کا وقت اس پر صرف کیا۔کیونکہ پہلی دونوں تقریروں کے لیے آدھ آدھ گھنٹہ اور بعد میں پندرہ پندرہ منٹ کا وقت تھا۔مولوی ثناء اللہ صاحب جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ قرآن کریم سے پیش کردہ میرے دلائل کا جواب دیتے اور میرے استدلال کو توڑتے۔انہوں نے ادھر اُدھر سے کچھ اعتراض کئے ، کچھ استہزاء کیا، کچھ شعر بازی کی جیسا کہ ان کی عادت تھی اور اپنا آدھ گھنٹہ ختم کر دیا۔میں جب اپنی باری پر اٹھا تو کہا کہ میری پیش کردہ قرآن مجید کی تین دلیلوں کا مولوی ثناء اللہ صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب قرآن کریم کی رو سے صادق اور راستباز ہیں۔ہاں کچھ تمسخر کیا ہے اور کچھ شعر پڑھتے ہیں۔جس کا میں کوئی جواب نہیں دیتا کیونکہ یہ موضوع بحث سے خارج ہے۔اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ تمسخر کرنا جاہلوں کا کام ہے عالموں اور محققوں اور طالبان حق کا یہ شیوہ نہیں۔جیسا کہ فرمایا أَعُوذُ بِاللَّهِ أَن الونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (۲۸:۲) اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے عالم ہوں جاہل نہیں بننا چاہتا۔نیز قرآن کریم سے ثابت ہے کہ تمسخر کرنا مشرکوں کا کام ہے جیسا کہ فرمایا ان اللہ والہ و رسولہ کی کشتی و ون (۶۵:۹) اور میں خدا کے فضل سے موحد ہوں ہمشرک نہیں۔نیز قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ استہزاء کرنا منافقوں کا کام ہے جیسا کہ منافقوں کا قول