حیاتِ بقاپوری — Page 300
حیات بقاپوری مرتب) جاتی ہے۔کھانسی رات کے وقت زیادہ ہوتی ہے۔حضور کوتین القاء ہوئے: (۱) إِنْ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ۔300 (ترجمہ: یقینا وہ ذات جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے۔ضرور تجھے لوٹائے گا۔اصل لوٹنے کی جگہ پر (۲) الحُمَّى مِنْ نَّارِ جَهَنَّمَ فَاطْفِؤُهَا بِالْمَاءِ۔(ترجمہ:۔بخار جہنم کی آگ ہے۔اسے پانی سے بجھاؤ۔مرتب) (۳) بنایا گیا کہ اکثر بیماریوں کا علاج ہوا، پانی اور آگ سے۔اور دردوں کا آگ اور پانی سے۔پھر فرمایا: " بہت حکمتیں رکھی ہیں انشاء اللہ طبیعت اچھی ہو جانے پر بتاؤ نگا۔“ پس ہوا اور پانی سے علاج کرنے کے واسطے تبدیلی آب و ہوا کی تجویز ہوئی۔اور بعض دوستوں کی رائے کے مطابق دارالعلوم کے بورڈنگ ہاؤس کی بالائی منزل خالی کرائی گئی۔اس کے درمیانی کمرہ میں ایک دیوار کھڑی کی گئی تھی۔اُسے نکال دیا گیا۔اوپر چڑھانے کے واسطے میزوں کی سیڑھی بنائی گئی۔لیکن بعد از نماز جمعہ نواب محمد علی صاحب کی مکر ردرخواست کی بناء پر حضور کو نواب صاحب کی کوٹھی ( دار السلام میں پہنچایا گیا۔راستہ میں بورڈ رز صف بستہ کھڑے عرض کر رہے تھے، السلام علیک یا امیر المومنین حضور نے ڈولی ٹھہرانے کا حکم دیا۔اُن کیلئے با چشم پر آب دُعا کی۔اور مولوی محمد علی صاحب کو فر مایا: انہیں نصیحت کر دینا۔آپ کے اہل و عیال بھی آپ کے ساتھ ہیں۔وہاں کا منظر آپ کو پسند ہے۔دوراتیں یعنی اتوار اور سوموار کی رات کو بے چینی بہت رہی۔آج رات دو بجے تک بے آرامی تھی۔میاں شریف احمد صاحب کو جو پسلی کے درد کے سبب آپ کو ٹکور کر رہے تھے۔فرمایا کہ آپ کی مہربانی سے اب کچھ افاقہ ہے۔اور پانچ بجے کے قرب آرام فرمایا۔ٹمپریچر سوموار کی صبح کو ایک سو درجہ تھا اور منگل کی صبح ۹۷ تھا۔طبیعت میں کمزوری بہت ہے۔