حیاتِ بقاپوری — Page 301
حیات بقا پوری 301 فروری ۱۹۱۳ء سے ہر روز با قاعدہ ایک کارڈ ہمیں چک نمبر ۹۹ شمالی سرگودھا کے پتہ پر حافظ روشن علی صاحب سیکرٹری انجمن انصار اللہ کے دستخط سے مل جاتا جس سے حضرت خلیفہ اول کی حالت سے مطلع کیا جاتا تھا چنانچہ کے ۴۔مارچ ۱۹۱۳ء کی حالت لکھی ہوئی جو کارڈ کے ذریعے معلوم ہوئی اس میں یہ فقرہ بھی تھا۔کہ اب حضرت خلیفہ صاحب کی حالت ایسی نڈھال ہو گئی ہے جو تشویشناک ہے۔احباب کرام جو حضور کی آخری زیارت کرنا چاہیں وہ ہفتہ عشرہ کے اندر اندر آجائیں۔اس خبر کے پہنچتے ہی مجھے حضرت مسیح موعود کی وفات کا نظارہ یاد آگیا تو میں چک شمالی سرگودھا سے نماز جمعہ پڑھا کرے تاریخ سیالکوٹ پہنچا وہاں مجھے چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم نے فرمایا۔کہ آپ قادیان جا رہے ہیں اور وہاں خلافت کے متعلق دو پارٹیاں ہیں۔ایک حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب اور دوسرے مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔غرض جب میں اا تاریخ بروز بدھ قادیان پہنچا اور سیدھا نواب صاحب کی کوٹھی پر گیا تو اس وقت ڈاکٹر مزرا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت خلیفہ صاحب کو میرے سامنے وہی پلایا جو آپ نے قے کر دی۔اس وقت آپ کی حالت یہ تھی کہ جو کھاتے پیتے تھے تھے کر دیتے تھے۔ویسے حضور کے ہوش و حواس قائم تھے۔ویسے سلام کا جواب بھی دیا اور خیر و عافیت بھی پوچھی۔وہاں سے میں کوٹھی کے اس کمرے میں گیا جہاں حضرت صاحبزادہ صاحب قیام پذیر تھے اور حضرت خلیفہ اول نے ان کو امام الصلوۃ مقرر کیا ہوا تھا۔میں نے آپ سے مصافحہ کیا ہی تھا کہ مولوی فضل دین صاحب وکیل نے وہ کا غذ صاحبزادہ صاحب کو واپس دیا جو آپ نے مولوی محمدعلی صاحب کے پاس لکھ کر بھیجا تھا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام جماعت احمدیہ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمارے اہل قادیان کے درمیان خلیفہ کے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔ہمارا خلیفہ ابھی ہمارے درمیان زندہ موجود ہے۔خدا تعالے اس کی عمر بہی کرے۔یہ ایک افواہ ہے اور جھوٹی افواہ ہے کہ فلاں خلیفہ ہوگا۔اور بعض کے نزدیک فلاں خلیفہ ہو گا جس کے یہ معنے ہیں کہ نعوذ باللہ خلیفہ وقت کی موت چاہتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس کاغذ کے لکھنے کے بعد مولوی محمد علی صاحب کو زبانی پیغام دیا تھا کہ میں نے نیچے دستخط کر دئے ہیں آپ بھی کر دیں۔ایک نقل آپ اخبار پیغام صلح میں چھپوا دیں اور دوسری نقل میں الفضل میں شائع کروا دیتا ہوں۔مولوی فضل دین صاحب نے دونوں تقلیں واپس دیکر کہا کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ یہ اختلاف قادیان میں ہی ہے باہر اسکی کوئی خبر نہیں۔اس طرح بے خبروں کو خبر دار کرنا ہے۔ہم اخبار میں شائع نہیں کرتے۔یہاں ہی عصر کے بعد ہم دونوں تقریر کر دیں یہی کافی ہوگا۔میں نے یہ سُن کر حضرت صاحبزادہ