حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 293 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 293

حیات بقاپوری 293 ایک ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جس کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔اس کے ممبر وہ لوگ ہو سکتے تھے جو استخارہ کر کے اس میں شامل ہوں۔چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب، حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل اور دیگر لوگ اس کے ابتدائی ممبر تھے۔اس انجمن نے ایام خلافت اولی اور خلافت ثانیہ کے شروع میں قابل قدر خدمات انجام دیں مثلاً جب انجمن انصار اللہ نے دیکھا کہ خواجہ صاحب ولایت میں سلسلہ کی تبلیغ نہیں کر رہے۔کیونکہ وہ لکھتے تھے کہ یہاں یورپ میں اسلام کی فرقہ بندی کا ذکر کر ناسم قاتل ہے تو اس انجمن نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو اپنے انتظام کے تحت ولایت میں سلسلہ حلقہ کی تبلیغ کے لیے بھیجا غیرہ۔میں قادیان میں آکر 1911ء یا ۱۹۱۳ء میں بعد استخارہ مجلس انصار اللہ میں داخل ہوا اور کام کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ جب لاہور سے ایک ٹریکٹ اظہار حق کے دو نمبر شائع ہوئے جس میں خلافت احمدیہ کا انکار کیا گیا تھا اور ٹریکٹ اخبار پیغام مصلح کے ذریعے شائع ہوا۔تو اس کے جواب میں جماعت انصار اللہ میں سے چالیس آدمیوں نے ہر دو نمبر اظہار حق کا جواب بنام "خلافت احمدیه" و "اظہارِ حقیقت دونمبروں میں دیا۔جس میں بفضلہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کا ثبوت قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے دیا گیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارا پورا پورا پروپیگنڈا بذریعہ خبار الحکم اور بدر میں شائع نہیں ہوسکتا۔تو انہوں نے حضرت خلیفہ اسی اول سے ایک اخبار بنام پیغام صلح لاہور سے شائع کرنے کی اجازت لے لی۔جب اس کے دو چار نمبر شائع ہوئے تو صاحبزادہ صاحب نے اس کے جواب میں اخبار الفضل کی منظوری لے لی۔غرض اس کے بعد وہ تیسرا نمبر نہ نکال سکے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب پیغام صلح کو حضرت خلیفہ اول نے دیکھ کر فرمایا کہ لوگوں کے لیے تو پیغام مصلح ہوگا لیکن ہمارے لیے تو پیغام جنگ ہے۔جوں جوں ہم حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب مدظلہ العالی کا نمونہ اخلاقی اور روحانی دیکھتے تھے۔بلکہ آپ کی اخلاقی اور روحانی باتوں سے ہم سمجھتے تھے۔کہ یہ کوئی عظیم الشان انسان ہے۔اور اس کے مقابل پران منکران خلافت کا حاسدانہ رویہ دیکھتے تو افسوس ہوتا کہ یہ کیا وجہ ہے۔لیکن حضرت صاحب کی حیثیت اور ان کی قدرو منزلت صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الہامات سے ہی نہیں ہوتی تھی۔جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے متعلق پائے جاتے تھے۔بلکہ ایک دن حضرت خلیفتہ اسے اول نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے فرمایا