حیاتِ بقاپوری — Page 255
حیات بقاپوری 255 خواجہ صاحب نے کہا کہ مجھے تو تسلی اُسی وقت ہوگی کہ آپ اس کو کاٹ دیں۔حضور نے فرمایا۔آپ فکر نہ کریں۔ہم اقرار کرتے ہیں کہ اگر سعد اللہ مقدمہ کرے گا تو ہم آپ کو وکیل نہیں کریں گے۔اس روایت کا مفصل ذکر الحکم جلد ۳۸ میں اور تذکرہ صہ ۶۶۵ پر بھی ہے۔۸۴ ناپاک چیز غیر مسلم کو دیتے وقت مطلع کرنا:۔ایک سالانہ جلسہ پر شب دیگ جو خواجہ ( کمال الدین ) صاحب نے پکوائی تھی رات کو کتوں نے چولھے سے گرا کر کچھ کھا لیا۔صبح اس بات میں اختلاف ہوا۔کہ بھنگی کو دینی جائز ہے یا نہیں۔میں بھی اس وقت وہاں کھڑا ہوا تھا۔فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت سے دریافت کیا جائے۔چنانچہ حضور سے دریافت کیا گیا۔فرمایا۔بھنگی کو اطلاع کر دینی چاہئیے۔پھر وہ لیتا ہے تو لے لے۔-۸۵ حضرت مسیح موعود کا نور فراست: دسمبر ۱۹۰۶ ء کا واقعہ ہے۔کہ مہمان خانہ میں ایک وحدت وجودی آیا۔اور کہنے لگا۔کہ میرے دس اعتراض ہیں۔اگر وہ حل ہو گئے تو میں احمدی ہو جاؤنگا۔اور ہم نے بہت پوچھا کہ وہ اعتراض کیا ہیں۔اُس نے کہا کہ صبح حضرت صاحب کو ہی بتلاوں گا۔چنانچہ جب صبح حضور سیر کے لئے گاؤں بسر اواں کیطرف تشریف لے گئے۔اُس وقت ہم خدام کوئی پندرہ ہیں ہمراہ تھے اور وہ شخص بھی ہمارے ساتھ تھا۔حضرت اقدس نے خود ہی ایک تقریر شروع کر دی جو واپس گھر آنے تک ختم ہوئی۔جب ہم مہمانخانہ میں واپس آئے اور ہم نے اُسے کہا کہ اب تو تم ظہر کی نماز کے وقت ہی اگر حضور تشریف لائے۔تو دریافت کرو گے۔وہ کہنے لگا۔کہ میرے دس سوال ہی حضور کی تقریر سے حل ہو گئے ہیں۔اب تو میں ظہر کے وقت بیعت ہی کرلوں گا۔- حضرت ابو ہریرہ کے قول کا مطلب:۔۱۹۰۶ء کے سالانہ جلسہ کے تین چار دن بعد کا واقعہ ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ سیر کو تشریف لے گئے۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا۔کہ یہ جوصوفیوں میں