حیاتِ بقاپوری — Page 256
حیات بقا پوری 256 مشہور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض باتیں عام لوگوں کو نہیں بتلائیں۔بلکہ بعض خاص لوگوں کو بتلائی ہیں۔کیا یہ درست ہے؟ حضور نے فرمایا۔کہ قرآن شریف سے تو یہی ثابت ہے۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب باتیں لوگوں تک پہنچا دیں۔چنانچہ فرمایا۔یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک (۶۸:۵)۔میں نے عرض کیا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔علمتُ دَعَاتَين من الرسول (الحدیث) یعنی میں نے رسول اللہ سے دو برتن علم کے سیکھے ہیں۔ایک کی تو میں نے تمہارے درمیان اشاعت کر دی ہے۔اور دوسر بر تن علم کا ایسا ہے۔اگر میں وہ تمہیں بتلاؤں تو میرا گلا کاٹا جائے۔میں نے عرض کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض باتیں اسلام کی جو گہرے حقائق و معارف ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کو بتلایا کرتے تھے۔کیونکہ عام لوگوں کی طبائع اس کی متحمل نہیں ہوتیں۔حضور نے فرمایا۔اگر اس کا یہی مطلب ہے تو اس کیلئے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اور دیگر فقہاء صحابہ اہل تھے نہ کہ ابو ہریرہ۔مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات بتلانے والے کی طرف سے تو روک نہیں ہوتی مگر سننے والا اپنی سمجھ میں اس کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔اسی طرح کی یہ بات ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سن لی۔جو آپ نے بنوامیہ کے متعلق بیان فرمائی۔اور ابو ہریرہ اس کا ظاہر کرنا موجب فتنہ و فساد سمجھتے تھے۔۸۷- وَأُمُّهُ صِدِّيقة كا مطلب :- ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے عرض کیا۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ کی قرآن شریف میں تعریف آئی ہے۔کہ وَأُمُّهُ صِدَ يُقَةٌ (۷۶:۵)۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا مقصد حضرت مسیح کی الوہیت کا بطلان ہے۔۔۔اور اس سلسلہ میں حضور علیہ السلام نے ایک پنجابی ضرب المثل سے تشریح بھی فرمائی۔-۸۸ آیت كُل شَيءٍ هَا لِكَ إِلَّا وَجْهَهُ کے معنے: ایک دفعہ قادیان جاتے ہوئے میں لاہور میں مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی سے ملا۔