حیاتِ بقاپوری — Page 236
حیات بقاپوری 236 ( بدر ۴ اپریل ۱۹۰۷ء) ۳۰۔دعا میں صیغہ واحد کو جمع کرنا:۔ایک دوست کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں ایک مسجد میں امام ہوں بعض دعا ئیں جو صیغہ واحد متکلم میں ہوتی ہیں۔یعنی انسان کے اپنے واسطے ہی ہو سکتی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ اُن کو صیغہ جمع میں پڑھ کر مقتدیوں کو بھی اپنی دعا میں شامل کر لیا کروں۔اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔فرمایا۔جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں اُن میں کوئی تغیر جائز نہیں کیونکہ وہ کلام الہی ہیں۔وہ جس طرح قرآن شریف میں ہیں اُسی طرح پڑھنی چاہئیں ہاں حدیث میں جو دعا ئیں آئی ہیں اُن کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کی بجائے صیغہ جمع میں پڑھ لیا کریں۔( بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء) ۳۱۔بچہ کے کان میں اذان:- حکیم محمد عمر صاحب لدھیانوی نے دریافت کیا کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو مسلمان اس کے کان میں اذان کہتے ہیں۔کیا یہ امر شریعت کے مطابق ہے یا صرف ایک رسم ہے۔فرمایا۔یہ امر حدیث سے ثابت ہے۔اور نیز اُس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔لہذا یہ رسم اچھی ہے اور جائز ہے۔۳۲۔نشان کے پورا ہونے پر دعوت :۔بدر ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ء) خاں صاحب عبدالمجید صاحب ساکن کپورتھلہ نے حضرت کی خدمت میں ڈوئی کے شاندار نشان کے پورا ہونے کی خوشی میں دوستوں کو دعوت دینے کی اجازت حاصل کرنے کے واسطے خط لکھا۔حضرت نے اجاز تا فرمایا کہ تحدیث بالنعمت کے طور پر ایسی دعوت کا دینا جائز ہے۔