حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 223 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 223

حیات بقاپوری 223 می کے ہیں۔ان سے دنیا کو بہت فوائد پہنچے ہیں۔مگر ان کو پیغمبر کے درجے پر سمجھنا۔صفات نبوت ان میں قائم کرنا کفر نہیں ہے۔تو قریب قریب اس کے تو ضرور ہے۔اگر ائمہ اربعہ سے خط ممکن نہ تھا تو پھر با ہم ان میں صد با اختلافات کیوں پیدا ہو گئے۔اور اگر ان سے اپنے اجتہادات میں خطا ہوئی۔تو پھر ان خطاؤں کو ثواب کی طرح کیوں مانا جائے یہ بری عادت مقلدین میں نہایت شدت سے پائی جاتی ہے۔وہ لوگ ( غیر مقلدین ) جو موحدین کہلاتے ہیں۔اکثر عوام الناس ان میں سے اولیاء کی حالت اور مقام کے منکر پائے جاتے ہیں۔اور ان میں خشکی بھری ہوئی ہے۔اور جن مراتب تک انسان بفضلہ تعالیٰ پہنچ سکتا ہے۔اس سے وہ منکر ہیں۔بعض جاہل ان میں سے آئمہ مجتہدین سے ہنسی بھی کرتے ہیں۔اور طریق فکر و توحید حقیقی و ذوق و شوق دانس و محبت سے بالکل دور مجبور پائے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ دونوں فریقوں کو توفیق راہ ہدایت بخشے۔(الحکم ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء) ۴۔حدیث : اذا اقيمت الصلوة فلا صلواة الا المكتوبة كا مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دیکھنے میں آیا کہ جب تکبیر ہوتی تھی تو جو احباب سعتیں پڑھ رہے ہوتے تھے۔وہ انہیں پوری کر کے جماعت میں شامل ہوتے تھے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی مندرجہ بالا حدیث کا مطلب ہم یہی سمجھتے تھے کہ جب امام تکبیر کہے تو اس کے بعد اگر سنتیں پڑھنے والا ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی سنت کی نماز ختم کر کے رکوع میں امام کے ساتھ مل سکتا ہو تو وہ پوری کر لے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل واقعہ روشنی ڈالتا ہے۔امام سجدہ کرنے کے بعد دوسری رکعت میں کھڑا ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے رہے۔جب امام نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُٹھ کر رکوع میں شامل ہو گئے۔سلام کے بعد مولوی صاحبان سے اپنی رکعت کے متعلق ذکر کیا جو بغیر احمد کے ادا کی تھی۔تو انہوں نے کہا کہ چونکہ حدیث میں آیا ہے۔كه لا صلواة الا بفاتحة الكتب۔اس لئے آپ کی رکعت نہیں ہوئی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔لا صلوۃ آیا ہے۔نہ کہ لا رکعت۔جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں الحمد تو ضرور پڑھنی چاہیے۔لیکن اگر کسی وجہ سے کسی