حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 224 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 224

حیات بقا پوری 224 رکعت میں الحمد نہ پڑھی جائے تو وہ رکعت ہو جاتی ہے اور اسی لئے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں شامل ہونے والے کو رکعت پالینے والا ہی شمار کیا ہے۔اُس دن ہم نے سمجھ لیا کہ یہ جو فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی ایک رکعت سنت رہتی ہو تو وہ پوری کر کے جماعت کے ساتھ شامل ہو، بھیج ہے۔لیکن فرقہ اہل حدیث کا یہی مذہب ہے کہ نمازی جس حالت میں ہو امام کے تکبیر کہنے کے بعد سلام پھیر دے۔خواہ وہ آخری التحیات میں ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔مگر روایات کے لحاظ سے صحیح وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مسلک تھا۔اور صحابہ کرام کا بھی اسی پر عمل تھا۔خلافت ثانیہ کے شروع میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ کا ایک مضمون شائع ہوا۔جس میں لکھا تھا۔کہ جب تکبیر شروع ہو جاوے تو سنتیں پڑھنے والا خواہ وہ آخری تشہد ہی پڑھ رہا ہو۔سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جائے میں نے جب میر صاحب کا یہ مضمون پڑھا۔تو ان سے عرض کیا۔کہ آپ کا یہ مسلک سلسلہ کے طرز عمل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے استدلال کے خلاف ہے۔اور فقہاء نے بھی آپ کے خلاف لکھا ہے۔اس پر آپ خاموش ہو گئے۔پھر میں نے مفتی سلسلہ مولوی محمد سرور شاہ صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا طرز عمل فقهاء والا ہی بتایا۔اس کے بعد اس اختلاف کا ذکر میں نے حضرت خلیفہ الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے کیا۔تو آپ نے بھی مولوی محمد سرور شاہ صاحب کی تائید فرمائی۔- آتش ابرا میں واقعی لکڑیوں والی آگ تھی! خلافت ثانیہ کا ہی واقعہ ہے کہ ایک احمدی نے مجھ سے سوال کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ جو نمرود نے جلائی تھی۔کیا وہ حسد اور لڑائی کی آگ تھی؟ میں نے کہا کہ یہ سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا گیا حضور علیہ السلام کا عقیدہ یہی تھا کہ وہ آگ یہی لکڑیوں والی آگ تھی۔چنانچہ دھر مپال نے اپنی کتاب ترک اسلام میں جب اس معجزہ کا انکار کیا۔تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے اخبار اہل حدیث میں لکھا کہ کیا اچھا ہو کہ اگر مرزا صاحب جو اپنے آپ کو ابراہیم کہتے ہیں آگ میں پڑکر یہ معجزہ دکھلا دیں۔اس کا ذکر ایک دوست نے حضرت اقدس کے پاس کیا اور کہا کہ یہ آگ تو جنگ اور فتنہ و فساد کی تھی نہ کہ لکڑیوں کی۔تو آپ نے فرمایا نہیں مولوی صاحب ! یہی لکڑیوں والی آگ تھی۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی جو مخالفین نے اپنی مرضی سے جلائی تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زبر دستی اس میں ڈالا گیا تھا۔یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابراہیم کے نام