حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 198 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 198

198 حیات بقاپوری آپ یہ معلوم کر کے خوش ہونگے۔کہ عزیزم ظفر اللہ خان محض آپ کی دعاوں کی قبولیت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قبول فرمائیں۔وظیفہ کے امتحان میں کامیاب ہو گیا ہوا ہے۔دراصل یہ بھی کرامت ہے۔کیونکہ میں یہ خیال کرتا تھا کہ اگر ظفر اللہ خان پاس ہو گیا ہوتا تو اس کا ہیڈ ماسٹر یا کوئی دوسرا استاد تو بتلاتا کہ وہ پاس ہو گیا ہے۔یہ امتحان جنوری یا فروری ۱۹۵۶ء میں ہوا تھا۔اب چند روز ہوئے اس کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے پرانے کاغذات دیکھے تو دیکھا کہ میونسپل ہائی سکول کے جتنے لڑ کے وظیفہ کے امتحان میں بیٹھے تھے۔ان میں صرف ظفر اللہ خان ہی پاس ہوا ہے۔اور اس کے وظیفہ کی ۹۷ روپے ۸ آنے رقم جمع ہو چکی ہے۔جو آج انہوں نے دی ہے۔۲۳۔جنوری ۱۹۵۷ء سلیم اللہ خان از میر پور خاص ۱۳۳ آخیر ۱۹۵۵ء میں مکرم مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعتہ المبشرین نے مجھے اپنے لئے زینہ اولاد کے متعلق دعا کے لئے کہا۔جس پر میں نے ان کے لئے دو تین دن تک متواتر دعا کی۔تو مجھے خواب میں جتلایا گیا کہ ان کی بیوی اس حمل سے لڑکا بنے گی۔جس کا ذکر مولوی صاحب موصوف نے حیات بقا پوری حصہ سوم کے ایڈیشن اول کے ریویو کے ضمن میں کیا ہے، کہ: میں نے مولا نا با پوری صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا شروع کیا۔میری چار بچیاں تھیں۔اور اولاد نرینہ سے محروم تھا۔میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر نرینہ اولاد کے لئے دعا کی درخواست کی۔اسی طرح مکرم جناب ڈاکٹر غلام غوث صاحب کی خدمت میں بھی دعا کی درخواست کی۔چنانچہ ان دونوں بزرگوں نے مجھے کہا کہ اب اللہ تعالیٰ آپ کو نرینہ اولاد عطا کرے گا۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی طرح ان بزرگوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور پھر قبل از وقت ان کو اطلاع بھی دیتا ہے۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء " ۱۳۴ اسی طرح ۱۹۵۵ء میں مکرم مولوی ملک مبارک احمد صاحب واقف زندگی تحریک جدید کی تحریک پر ان کی نرینہ اولاد کے لئے دعا کی تو القاء ہوا کہ: دلڑکا دیا جائے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں لڑکا عطا فرمایا۔