حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 197 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 197

حیات بقاپوری 197 یعنی کچھ عرصہ کے بعد۔چنانچہ آٹھ دس ماہ کے بعد ترقی ہو گئی۔۱۳۹ - ۱۶ نومبر ۱۹۵۵ء کو مرزا عبد المنان صاحب کراچی کے رفع مصائب و نکاح کی بابت دعا کی۔القاء ہوا: اس کی ان کو اطلاع دے دی گئی۔نُمَتعُهُمْ و نیک اولاد ۱۳۰- ۲۱ نومبر ۱۹۵۵ ء کا واقعہ ہے۔حیات بقا پوری حصہ چہارم کے مسودہ مضمون خلافت ثانیہ کی طباعت میں روک پیدا ہو رہی تھی۔اس کے لئے دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ سورج نکلا ہے۔نو دس بجے کے قریب کا وقت ہے اور بادل اس کے اُوپر سے اترتا جا رہا ہے اور سورج نیچے سے چمکتا ہوا نکلتا آ رہا ہے۔اس کی اطلاع مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نائب وکیل التبشیر کو کر دی گئی۔چنانچہ اس کے بعد جلد ہی یہ حصہ چہارم چھپ گیا۔۱۳۱ - ۲۷ نومبر ۱۹۵۵ء کو مکرم صوفی محمد رفیع صاحب کے قرضہ اترنے کے متعلق دعا کی۔تو القا ہوا : چھتیں جس کی تعبیر اب معلوم ہوئی۔جبکہ ان کا کلیم چھتیس ہزار کا نکلا۔۱۳۲ نومبر ۱۹۵۵ء میں عزیز سلیم اللہ خان نے میر پور خاص سندھ سے مجھے اپنے بیٹے ظفر اللہ خان کے وظیفہ کے امتحان میں کامیابی کے لئے لکھا۔میں نے دعا کی تو دوسرے تیسرے دن مجھے خواب میں بتلایا گیا کہ وہ امتحان میں پاس ہو کر وظیفہ حاصل کرے گا۔چنانچہ اس نے امتحان دیا۔مگر اس کی کامیابی کی اطلاع دسمبر ۱۹۵۶ء تک کوئی نہ آئی۔آخر ۱۹۵۷ء بھی شروع ہو گیا۔جنوری ۱۹۵۷ء کے وسط تک بھی میرے پوچھنے پر جواب نفی میں آتے رہے۔آخر ۲۳/۱/۵۷ کا لکھا ہوا خط مجھے ملا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک تازہ نشان ظاہر ہوا۔چنانچہ اسی خط کی نقل بجنسہ درج ذیل ہے: مکرمی و محترمی حضرت مولوی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ