حیاتِ بقاپوری — Page 174
حیات بقاپوری 174 دوسری جگہ الاٹمنٹ کردار ہے ہیں۔میں بھی احمدیوں میں بھاگتا ہوا آ گیا ہوں اور بیٹھا ہوا احمدیوں سے لڑائی کی باتیں کر رہا ہوں۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے سے دشمن کے آدمی قتل کرنے کے لیے آرہے ہیں۔میں بار بار اپنی پچھلی طرف مڑ کر دیکھتا ہوں۔یوں معلوم ہوا کہ کسی نے مجھ پر تلوار کا وار کیا اور قتل ہونے لگا ہوں۔مگر نہ کوئی آیا اور نہ حملہ کیا۔پھر ایک احمدی نے مجھے کہا آپ کی پگڑی میرے پاس محفوظ ہے اور آپ کی چھڑی فلاں کے پاس ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے سر کی لگی اور چھڑی جو بہت خوبصورت ہیں، مجھے دینے کے لیے لارہے ہیں اور میں مطمئن ہوں۔اور اس وقت اپنے آپ کو مبلغ اور امام الصلواۃ سمجھتا ہوں۔-۱۳۶۲ نومبر ۱۹۵۳ء کو خاکسار برکات احمد صاحب را جیکی کی صحت کے واسطے دعا کر رہا تھا کہ دل میں القاء ہوا: دس دن اور زبان پر جاری ہوا۔اِنَّ الله عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِير - ۲۴ نومبر ۱۹۵۳ء کومکر مہ والدہ صاحبہ برکات احمد نے آکر کہا، 'کل سے خط آیا ہے۔الحمد للہ عزیز برکات احمد بفضل تعالیٰ پوری صحت و عافیت سے ہے۔۶۳۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے رشتہ کے متعلق جو نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی صاحبزادی سے قرار پایا تھا، استخارہ کے لیے فرمایا۔اور اسی طرح نواب صاحب موصوف نے بھی استخارہ کے لیے لکھا۔۲۰۔نومبر ۱۹۵۰ء کو یہ رویاء دیکھی۔کہ عزیزہ قدسیہ سلمہا اللہ تعالیٰ بنت نواب صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے پاس بیٹھی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ان پر اسی طرح راضی و خوشی ہیں جس طرح اپنی بیٹی امتہ المجید سلمہا اللہ تعالیٰ پر۔پھر نواب صاحب کے کمروں کی طرف گیا ہوں اور یوں معلوم ہوا کہ عزیزہ قدسیہ بیگم اپنے والد صاحب کے کمرہ سے نکل کر اندر چلی گئی ہیں۔اور میں اُن کا رشتہ مرزا مجید احمد صاحب سے موزوں سمجھتے ہوئے نواب صاحب سے کہتا ہوں مجھے آٹھ روپے دے دیں میں تھک گیا ہوں۔سید نظاره رتن باغ لاہور کے مکان میں دکھایا گیا اور ہر دو بزرگوں کو اطلاع دی گئی کہ میرے نزدیک یہ رشتہ موزوں ہے۔چنانچہ اس کے بعد نکاح اور رخصتانہ بھی عمل میں آگیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔