حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 147 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 147

حیات بقاپوری 147 تبلیغ کو با قاعدہ کرنے کے لیے اس سال میں نے تبلیغ کے حلقے مقرر کئے تھے۔بیشک ہر جگہ اور ہر ضلع میں ہم فی الحال آدمی مقرر نہیں کر سکتے تھے۔مگر پھر بھی جتنے آدمی اس کام کے لیے فارغ ہو سکتے تھے اور جن کو مقامی طور پر کام نہ تھا ان کو مقرر کیا گیا۔یعنی دو مبلغ اس کام کے لیے مقرر کئے گئے۔ایک مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور دوسرے مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری۔۔۔۔۔۔اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جن علاقوں میں یہ مبلغ مقرر کئے گئے ہیں ان میں بیداری پیدا ہو گئی ہے اور وہاں کے لوگ تبلیغ میں حصہ لینے لگ گئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو اہے کہ کئی لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور ایک ایسی جماعت بھی پیدا ہو گئی ہے جو آئندہ سلسلہ میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔بے نفس مبلغین کے لیے دُعا:۔میں خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسے بے نفس کام کرنے والے آدمی دئے ہیں۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے اخلاص میں اور ترقی دے اور ایسے ہی آدمی دے۔اس کے ساتھ ہی میں آپ لوگوں سے بھی چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو زیادہ کام کرنے کی توفیق دے۔دیکھو گجرات یا گوجرانوالہ کے علاقہ میں جو مبلغ گیا اُسی کا یہ فرض نہ تھا کہ تبلیغ کرتا بلکہ ہمارا بھی یہ فرض تھا کہ ہم بھی تبلیغ کے لیے جاتے۔اس لیے احسان فراموشی ہوگی اگر ہم ان مبلغین کی قدر نہ کریں اور ان کے لیے دعائیں نہ کریں کہ خدا تعالیٰ ان کی تبلیغ کے اعلیٰ ثمرات پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگ ہمیں کثرت سے دے اور اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے مخلص اور بے نفس انسان اس مقصد کے لیے پیدا ہوں۔آمین۔( نجات حصہ اول صفحه ۳ - ۴) محنت جانفشانی اور خدا تعالیٰ کی رضا:- حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز نے ۱۹۳۳ء میں جب مجھے سندھ میں امیر تبلیغ مقرر کر کے بھیجوایا، تو فرمایا کہ: