حیاتِ بقاپوری — Page 135
حیات بقاپوری 135 مولوی صاحب سے مودبانہ گذارش ہے۔کہ اپنے الفاظ مگر ہم سے بڑھ کر بد قسمت کون ہوگا پر خشیتہ اللہ سے غور کریں اور بحث کی طرف نہ جائیں۔دوسری تحریر خواجہ صاحب کی مندرجہ ذیل ہے۔جس میں انہوں نے صاف لفظوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول لکھا ہے۔بنگال کی دل جوئی صہ ۲۹ میں خواجہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: وہ زبردست حملے جس کی پیش گوئی دنیا کو ڈرانے کے لئے ۱۸۸۲ء میں ہوئی۔طاعون ، زلازل، قحط اور دیگر آفات سماوی کے رنگ میں ظاہر ہوئے لیکن زمانہ نے ابھی تک غفلت نہ چھوڑی۔زمانہ نے تاریخ کو دھرایا۔ایک رسول آیا لیکن هیهات ما يأتيهـم مـن رسـول الا كانوا به يستهزء ون۔دنیا میں جب کبھی رسول آیا لوگوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔کیا کوئی سعید روح ہے۔جو ان باتوں پر غور کرے۔(الحکم ۷۔اگست ۱۹۱۹ء) اس طرح کے بہت سے خطوط ہیں۔جن میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی ، رسول سے مخاطب کیا ہے۔حضرت صاحب نے کبھی بُر انہیں منایا بلکہ خوش ہوتے تھے۔اس سالانہ جلسہ پر جب کہ آپ یعنی حضرت اقدس معہ ہم خادمان کے بڑے بازار قادیان سے ہو کر ریتی چھلہ میں کثرت خدام سے غبار اٹھنے پر قیام پذیر ہوئے۔تو سیٹھی غلام نبی صاحب مرحوم نے خدام کو صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔اس پر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے سیٹھی صاحب مرحوم کو کہا کہ لوگ کیا کریں۔تیرہ سو سال بعد آج نبی کا منہ دیکھا ہے۔اسی طرح میں نے دیکھا۔کہ ایک شخص بلند آواز سے بار بار کہ رہا ہے: الصلوة والسلام علیک یا رسول الله الصلوة والسلام علیک یا نبی الله اور حضرت اقدس علیہ السلام تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس شخص کی طرف دیکھتے تھے۔اب میں تھوڑا سا اقتباس اپیل محبی حبیب الرحمن صاحب مرحوم رئیس حاجی پورہ میں سے لکھ کر دوسری تحریرات کو بشرط ضرورت دوسرے وقت پر چھوڑتا ہوں۔