حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 46 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 46

حیات بقاپوری 46 میں سب کچھ لکھا ہوا ہے۔میں نے لے کر اس سے وہ مقام پڑھا جہاں پر یہ دوسری روایت قبل موتھیم کی قرات لکھی ہوئی تھی۔یعنی ہر ایک اہل کتاب کو مرتے وقت حضرت عیسی علیہ السلام کی شکل دکھائی جاتی ہے اور وہ اُن پر ایمان لا کر مرتے ہیں۔مولوی صاحب کہنے لگے یہ روایت ضعیف ہے۔لوگ سمجھے کہ اگر روایت ضعیف تھی تو ہمارے مولوی نے خود پیش کیوں کی ! اور افسوس کرنے لگے کہ ضعیف روایت کو پیش نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس طرح مولوی صاحب کی بہت سبکی ہوئی۔مسیح موعود کا آنحضرت ﷺ کی قبر میں دفن ہونا دوسرے دن صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرہ تھا۔مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے کہا که اگر مرزا صاحب مسیح موعود ہوتے تو ان کی قبر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتی جیسا کہ حدیث میں آیا ہے قید من معي في تمرين فأقوم أنا وابن مريم من قبير واحد بين ابی بگیر و محمر۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب! حدیث شریف میں تو قبر کا لفظ آیا ہے کہ ابن مریم میری قبر میں دفن کیا جائے گا اور پھر میں اور وہ دونوں ایک ہی قبر سے اٹھیں گے۔آپ بجائے قبر کے مقبرہ مراد لے رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضور کی قبر کھود کر تو ابن مریم کو دفن نہیں کیا جائے گا۔اور جو نقشہ آپ مقبرہ نبوی کا دکھا رہے ہیں اس میں قبر کی خالی جگہ ایک کونے میں دکھائی گئی ہے۔حالانکہ حدیث میں ہے میں اور ابن مریم اکٹھے ایک قبر سے ابو بکر اور عمر کے درمیان سے اٹھیں گے۔پس آپ کا استدلال دونوں طرح غلط ہے۔نہ آپ حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ونعوذ باللہ کھود کر ابن مریم کے دفن ہونے کے قائل ہیں اور نہ حدیث کے الفاظ کی رو سے حضرت ابوبکر اور عمر کے درمیان دونوں ( آنحضرت وابن مریم ) کے جی اٹھنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔کیونکہ جو نقشہ آپ مجلس میں دکھلا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ میں مدینہ منورہ سے لایا ہوں اس میں ابن مریم کی قبر کی جگہ حضرت عمر کی قبر کے ساتھ دکھلائی گئی ہے۔حدیث کے الفاظ کے ماتحت تو یوں ہونا چاہیے تھا کہ ابن مریم حضور کی قبر میں دفن کئے جاتے اور وہاں سے ہی قیامت کو حضور کے ساتھ اکٹھے اٹھتے۔اس پر مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کہنے لگے کہ اس حدیث کا یہ مطلب درست نہیں تو آپ کیا مطلب