حیاتِ بقاپوری — Page 44
حیات بقاپوری 44 نہ اُلجھا۔اور صداقت قرآن اور اس کے منجانب اللہ ہونے اور تمام الہامی کتابوں سے افضل اور مکمل ہدایت نامہ ہونے کے دلائل دیتا رہا۔لوگ بہت ہی اچھا اثر لے کر گئے اور بازاروں میں ہمارے دوستوں نے لوگوں کی زبان سے برملا یہ فقرہ سُنا کہ مولوی ہوں تو ایسے ہوں۔اور احمدیت کا بھی خوب چرچا ہوا۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے حضرت مفتی صاحب دوسرے دن قریباً گیارہ بجے ہوشیار پور پہنچ گئے۔غیر احمدی جوق در جوق آنے لگے اور دوسری رات حضرت مفتی صاحب نے تقریر فرمائی۔پادری جوالا سنگھ اُن کے مقابل میں گو کھڑا ہوا لیکن ان کے منقولی دلائل جو عیسائیوں کی مقدس کتابوں پر ہی مبنی تھے اُن کا جواب اس سے بن نہ آیا اور لوگ عش عش کرنے لگے۔تیسرے روز بازاروں میں بھی احمدی مولویوں کا خوب چرچا ہوا اور سلسلہ کی تبلیغ ہوئی۔کیا بل رفعہ اللہ الیہ کا مطلب دنیا سے اٹھا لیتا ہے؟ ایک دفعہ ضلع جالندھر میں مسئلہ حیات وفات حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک غیر احمد می مولوی سے میرا مناظرہ قرار پایا۔جس نے تمام مجمع کو جو ڈیڑھ ہزار ہوگا، مخاطب کر کے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا گنگوہ یقینا بن رفعہ اللہ الیہ۔(۱۵۹۱۵۸:۴) کہ یہود نے اُسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔اس سے زیادہ واضح ثبوت حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کا اور کیا ہوگا ؟ میں نے جواب میں کہا کہ اے حاضرین جماعت ! ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مولوی کو بھی جلدی اس دنیا سے اٹھالے اس پر وہ غصہ کے ساتھ مجھے کہنے لگا کہ ”خدا تجھے نہ اٹھالے۔میں نے کہا کہ پھر اٹھا لینے کے معنے موت کے ہوئے نا اور نہ آپ کو غصہ کیوں آیا؟ یہی تو ہم کہتے ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو طبعی موت کے ذریعہ دنیا سے اٹھا لیا۔اس پر لوگ خوب ہنسے اور کہنے لگے مولوی صاحب آپ تو اپنے اقرار اور قول کی رو سے پھنس گئے۔ولکن شیکھم اور لیون یہ قبل موتہ کا مطلب 1919ء میں مسجد احمد یہ ( کبوتراں والی ) سیالکوٹ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے میرا مناظرہ