حیاتِ بقاپوری — Page 384
حیات بقاپوری 384 مسافر جو غالبا مسلمان تھا اس ڈبہ میں چڑھا اور جلدی میں حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی گٹھڑی پر بیٹھنے لگا تو حضرت مولانا نے اس کو ہاتھ سے پرے کر دیا۔اسکو اس شخص نے بہت پر امنایا اور غصہ میں کافی دیر تک گالیاں دیتا رہا حضرت مولانا اس دوران چپ رہے۔ڈبے کے مسافر بھی خاموش رہے۔جب وہ شخص تھک کر چپ ہوا تو ایک ہندو نے اس شخص کو کہا کہ دیکھو تم نے انہیں اتنی گالیاں دی ہیں لیکن یہ بالکل خاموش رہے ہیں۔یہ تو کوئی بھاگوان معلوم ہوتے ہیں ان سے معافی مانگو۔حضرت مولانا نے بتایا کہ اسوقت میں بولا کہ اس گھڑی میں قرآن شریف رکھا ہے۔اگر یہ انجانے میں اس پر بیٹھ جاتا تو اسکو ہی نقصان ہوتا۔میں نے قرآن شریف کے تقدس کی وجہ سے اس کو پرے ہٹایا۔اس پر وہ ہندو اور باقی مسافر بھی اس کو برا بھلا کہنے لگے تو وہ شخص بہت ہی شرمسار ہوا۔یہ گالیاں سن کر خاموش رہنا اور صبر کرنا بھی حضرت مسیح موعود کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہم گناہگاروں کو حضرت مولانا ابراہیم صاحب جیسے نیک بندوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ایک اور واقعہ درج کرتا ہوں۔ایک دفعہ پشاور میں اپنے بیٹے میجر محمد اسحاق بقا پوری کے پاس قیام کے دوران حضرت مولا نا بقا پوری صاحب واپس ربوہ جا رہے تھے۔ان دنوں چناب ایکسپریس پشاور سے براستہ ربوہ کراچی جاتی تھی۔پشاور ریلوے اسٹیشن پر میں بھی ان کو الوداع کہنے کے لیے پہنچ گیا۔کچھ اور لوگ بھی تھے۔گاڑی چلنے سے کچھ دیر پہلے آپ اپنے ڈبے کے دروازہ میں کھڑے ہو گئے۔اور احباب نے دعا کی درخواست کی۔چنانچہ آپ نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور سب احباب دعا میں شامل ہو گئے۔انکی دعا میں سوز وگداز اور اشک ریزی تھی۔جب دعا ختم ہوئی تو انکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔دعا میں لگن اور تضرع انکا خاصہ تھا۔جو آجکل بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ایک اور اللہ تعالیٰ کا نشان حضرت مولانا بقا پوری صاحب کے ذریعہ دیکھا وہ عرض کرتا ہوں۔یہ ان دنوں کا واقعہ ہے کہ جب میں پی ڈبلیوڈی میں ایکسین تھا۔اس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان ایک ہی ملک تھا۔مغربی پاکستان کا چیف انجینئر خان بہادر انعام اللہ خاں آئی ایس ای (ISE) تھا۔انگریزوں کے زمانے میں آئی سی ایس کی طرح آئی ایس ای چوٹی کی سول سروس تھی۔انعام اللہ خاں صاحب خدا کے فضل سے مجھ پر بہت مہربان تھے۔ان کا ہم زلف اس وقت کا چیف جسٹس انوار الحق تھا۔وہ انوار الحق جس نے ذوالفقار علی بھٹوکو پھانسی کی سزادی تھی۔انعام اللہ خاں نے مجھے منتخب کر کے انگلستان میں مزید تعلیم کے لیے برٹش کونسل کے وظیفہ پر بھیجا۔ایک سال کا کورس تھا اور میں ہائی ویز میں ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان واپس آ گیا۔لیکن مجھے بجائے اپنے محکمہ ہائی ویز کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ میں تعینات کر دیا گیا۔جسکا میری تعلیم اور ٹریننگ سے کوئی تعلق نہ تھا۔مجھے اس کا بہت دکھ ہوا۔میں