حیاتِ بقاپوری — Page 373
373 حیات بقاپوری مشرف ہوئے ہیں۔کاش ہمارے غیر از جماعت بھائی اس پاک تبدیلی پر غور فرمائیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متبعین میں پیدا کر دی ہے۔ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : والسلام خاکسار محمد شفیق قیصر ۲۰ فروری ۱۹۶۱ء متعلم جامعہ احمد یہ ربوہ مکرم محمد سعید صاحب سیکرٹری مال انجمن احمد یہ مونگ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم تحمدُه وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کیساتھ بخدمت شریف مولوی صاحب السلام عليكم ورحمته الله هو النَّاصِر اس زمانہ میں دنیا نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا سختی سے انکار کیا۔اور دعا کا بھی۔گو یا اللہ تعالیٰ کوصم بکم بنایا مگر اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنا آپ ظاہر کرتا رہتا ہے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو دعا کا ہتھیار دیا گیا۔اور اسی کو آپ نے استعمال فرمایا۔آپ کے بعد آپ کے پیروؤں نے بھی اس کو استعمال کیا۔چنانچہ اس وقت بھی ربوہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والے موجود ہیں۔جو اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسوقت بھی سنتا ہے اور مدد کرتا ہے۔چنانچہ اس ذیل میں میں اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔میرے چھوٹے بھائی عزیزم ریاض احمد کے نکاح کے بعد اُن کے سسرال کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے۔اور حالت یہاں تک پہنچی کہ تعلقات منقطع کرنے کی ٹھان لی۔چنانچہ میں مولوی بقا پوری صاحب کے پاس گیا۔اور سارا واقعہ سنایا۔مولوی صاحب نے دعا کی اور فرمایا۔کہ جاؤ ریاض الجنتہ بن جائے گی۔لڑکی ضرور آپ کے گھر آجاوے گی۔چنانچہ میں گھر آ گیا۔یہ ۱۱/۵۹ر