حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 367 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 367

حیات بقاپوری 367 صبح کی نماز جماعت سے ادا کرتے ہیں۔فرائض نماز اور تہجد اور دعاؤں کا شغل جب سے میراتعلق قائم ہوا ہے، اسی طرح بغیر ناغہ کے روزانہ چلا آتا ہے۔کیا مجال کہ اس میں اب بھی باوجود پیرانہ سالی کے فرق آیا ہو۔آپ کی ضعیفی اور کمزوری کے باوجود اس مستعدی سے ہمارا دل اکثر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔اور باوجود خواہش اور کوشش کے ہم سب آپ سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔دعاؤں میں انہاک کی یہ حالت ہے۔کہ اب بھی جب کہ ہر طرف سے دعاؤں کے لئے خطوط آتے ہیں۔آپ ان کے لئے بڑی توجہ اور سوز سے دعائیں کرتے ہیں۔اور جیسا اشارہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہو ان کو جواب لکھواتے رہتے ہیں۔چونکہ ہمیں خود بھی بعض اوقات جوابات لکھنے پڑتے ہیں۔اس لئے مینی شاہد کے طور پر معلوم ہوتا رہتا ہے۔کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ دور و نزدیک کے احباب کی تکالیف کو دور فرماتا اور ان کی حاجات کو پورا کرتارہتا ہے علمی میدان میں بھی آپ کو پوری بصیرت حاصل ہے۔نہ تو کورانہ تقلید کرتے ہیں۔اور نہ ہی ضد سے کسی بات پر اڑنے کی عادت ہے۔جب بھی کوئی بات کھٹکتی ہے۔تو بے دھڑک حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مبصرہ العزیز کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔اگر وہاں سے تائید ہو جائے تو خوش ہو جاتے ہیں۔اور اگر تردید ہو جائے تو اپنی غلطی کا برملا اعتراف کر لیتے ہیں۔چنانچہ کئی بار آپ نے ہمارے سامنے اعتراف کیا۔کہ میری ہی غلطی تھی۔ایک دفعہ قادیان میں عید اور جمعہ اکٹھے ہو گئے۔آپ نے احادیث میں یہ روایت پڑھی ہوئی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے اجازت دی ہے کہ اگر جمعہ نہ پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔یہ بات جھٹ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور پیش کر دی۔حضور نے فرمایا۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ پڑھا تھا۔اس لئے ہم بھی پڑھیں گے۔یہ جواب ہمیں سنا کر کہا۔کہ حضور نے درست فرمایا ہے۔جمعہ پڑھنا ہی افضل ہے۔دوسرے علمی مسائل کے متعلق بھی آپ کا یہی طریق خود اچھی طرح مسئلہ کے ہر پہلو پر غور کر کے اور سمجھ کر مانتے ہیں۔اگر کہیں انفرادی طور پر اپنی رائے ہو تو اس کو بیان کر دیتے ہیں۔شق القمر کے متعلق ایک دفعہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ بعض مفسرین نے اس سے عرب کی حکومت کا دوٹکڑے ہونا مراد لیا ہے۔ظاہری رنگ میں چاند کے دوٹکڑے ہونے کو قانون قدرت کے خلاف قرار دیا ہے۔اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا۔تو اس زمانہ میں دوسری جگہوں پر بھی چاند دو ٹکڑے ہونا نظر آنا چاہئیے تھا۔اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا۔کہ ہم ان اختلافات علمی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلہ کو آخری فیصلہ سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سرمہ چشم آریہ میں تحریر فرمایا ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خارجی تصرفات سے شق قمر ہوا۔اور یہ کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی نظر آیا ہے۔اس سے نظام شمسی تباہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ زمین میں بھی ایسے بہت سے زلازل