حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 363 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 363

حیات بقا پوری 363 اگر مولا نا بقا پوری صاحب اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرتے تو یقینا یہ وقت گزر جاتا۔گو بظاہر یہ واقعہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔لیکن ان لوگوں کی دیانت اور ذمہ داری کے احساس کے علاوہ اس بات کی بھی دلیل ہے۔کہ ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کا کس قدر درد ہے۔اور وہ کس طرح اپنے دلوں میں یہ تڑپ بھی رکھتے ہیں کہ کوئی کام ان کے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور حضور کے عمل کے خلاف نہ ہو۔الهم صل على محمد و آل محمد مکرم مولوی ظفر الاسلام صاحب انسپکٹر بیت المال صدرا مجمن احمد بدر بوه اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔میرا تو یہ ایمانی نظریہ ہے کہ صحابہ کرام کے ایمان افروز حالات زندگی کو قلم بند کرنا اور انہیں شائع کرنا یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی مقدس سوانح حیات کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔صحابہ کرام کے واقعات زندگی در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہی سیرت کے اوراق ہیں۔ان مقدس ہستیوں کے حالات پیش کر کے ہم ثابت کر سکتے ہیں۔کہ کس طرح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت ثانیہ میں ایسے خطر ناک زمانہ میں جس میں دجالیت کا ظہور اتم تھا۔جو انتہائی درجہ کی علالت کا زمانہ تھا۔جس کے مہلک اثرات سے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھی ڈراتے آئے ہیں۔اپنی قوت قدسیہ ویزکیہم کے ماتحت اپنی محبت میں رہنے والے نفوس کا اس قدر اعلیٰ تزکیہ فرمایا۔اور ان کے اندر وہ روح پھونک دی۔جس سے ان کی زندگیاں بھی معجزانہ طور پر رنگ پکڑ گئیر ہمارے سامنے یہ اپنے مقتداء و پیشواء کی صداقت کے چلتے پھرتے نشان ہیں۔اس ضمن میں میں بھی محترم حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کی زندگی کے دو ایک واقعات تحریر کرتا ہوں۔جو میں نے اپنے بزرگوار والد صاحب مرحوم سے میں۔ستے ہیں۔میرے والد صاحب حضرت مولانا بقا پوری صاحب کے گہرے دوست تھے۔آپ نے فرمایا کہ: ۱۹۳۵ء کا واقعہ ہے۔جبکہ حضرت مولانا صاحب بتا پوری اپنا مکان تعمیر کرا رہے تھے۔مکان کے دروازوں وغیرہ کیلئے لکڑی کا کام ایک مخلص احمدی مستری کے سپرد تھا۔کام کے دوران ایک دن دوپہر کے وقت جب