حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 361 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 361

361 حیات بقاپوری آپ سلسلہ احمدیہ کے پرانے مبلغ اور بلند پایہ مبلغ ہیں۔آپ کی تبلیغی زندگی کا کافی حصہ سندھ میں گزرا ہے۔جہاں آپ ۱۹۳۳ء سے ۱۲ ای تک تبلیغی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔سندھی لوگ پیروں کے بیحد گردیدہ ہوتے ہیں۔ان کو سہولت بہم پہنچانے کی خاطر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مولوی صاحب کو وہاں بھیج کر سندھیوں پر ایک بہت بڑا احسان کیا۔جہاں حضرت مولانا بقا پوری کے تقویٰ اخلاق حسنہ اور اوصاف عالیہ کا نمایاں رنگ میں مظاہرہ ہوا۔آپ اپنی تبلیغ میں اس کا بہت خیال رکھتے تھے کہ سندھی طبائع کی جہاں تک ہو سکے مخالفت نہ ہونے پائے۔اس وجہ سے سندھی آپ سے پیروں والی عقیدت رکھتے تھے اور عوام آپ کے پاس عقیدت کی بنا پر اہل و عیال سمیت دعا کیلئے آتے اور قبولیت دعا پر خوش ہو کر اپنی عقیدت میں مزید پختہ ہو کر واپس جاتے۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ آخر وہ ان نشانات کو دیکھ کر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو جاتے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ میں کبھی بھی آپ کی مخالفت نہیں ہوئی۔مناظروں میں آپ فریق مخالف کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ آپ کا ان سے کوئی حقیقی اختلاف ہے۔بلکہ آپ کی گفتگو سے لوگ یہی اندازہ لگاتے کہ معمولی سی کوئی غلط فہمی ہے۔جس کی اصلاح و ازالہ کی کوشش افہام و تفہیم کے ذریعے دونوں فریق نہایت خوشگوار رنگ میں کر رہے ہیں۔آپ سامعین سے کہتے کہ ہم آپ کے چچاؤں کے قائم مقام ہیں۔ہماری باتیں سن لو پھر جس کی چاہو، مانو۔اسی طرح ایک موقعہ پر بعض لوگوں نے آپ کو کہا کہ ہم اپنا مولوی بلاتے ہیں۔آپ اس کے ساتھ بحث کریں۔اس پر آپ نے انہیں کہا۔کہ میں کیا آپ کا نہیں۔تو پھر کیا میں بانیوں (یعنی ہندوؤں ) کا ہوں۔اس پر وہ لوگ شرمندہ ہو کر اس کی تردید کرنے لگے اور کہا کہ ہم تو آپ کو اپنا ہی مولوی سمجھتے ہیں۔اور آپ کی ہمارے دلوں میں بہت عزت ہے۔الغرض حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بفضل خدا ان خوش قسمت بزرگوں میں سے ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق دے۔کہ ان کے نمونہ کو دیکھ کر حسب استعداد اس سے فائدہ اٹھا ئیں آمین!