حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 360 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 360

حیات بقاپوری 360 وقت ایک اچھے عالم دین تھے جب کہ آپ کو شناخت امام کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ ظاہری علم و تفقہ فی الدین رکھنے کے علاوہ ایک صوفی منش بزرگ ہیں۔آپ کی زندگی شریعت کی قیود کا عملی نمونہ اور طریقت، حقیقت اور معرفت کی زندہ مثال ہے۔جہاں آپ نے سلسلہ احمدیہ کے مسلک کو اپنی سوانح میں عملی نقط نگاہ سے پیش کیا ہے۔وہاں اپنے حالات کو بیان کر کے مختلف نشانات اور تائید ربانی سے یہ بھی ثابت کیا ہے۔کہ ہمارا خدا بڑی قدرتوں کا مالک ہے۔اور اپنے پیاروں کے لئے جو خارق عادات نشانات دکھاتا اور غیر معمولی نصرت فرماتا ہے۔آپ کی سوانح حیات دل چسپ ہے۔آپ کے بے سروسامان ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ نے آپ سے امتیازی سلوک کیا۔اور آپ کو ہندوستان کے ہر صوبہ میں تبلیغ احمدیت کی توفیق بخشی۔سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کو ایک خاص شرف عطا فرمایا۔کہ آپ کو صوبہ سندھ میں تبلیغ کے لئے بھیجتے وقت وہاں کے نئے احمدی احباب سے بیعت لینے کا حکم فرمایا۔آپ کی سیرت کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے پر ایک دفعہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: سلسلہ احمدیہ میں صحابہ کرام کا ظہور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالی نے کیا۔ان صحابہ کی زندگی ایسے مشاہدات اور نشانات سے پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا زندہ ثبوت دنیا کے لئے اس طرح مل گیا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت میں ہوا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے: صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا حضرت بقا پوری صاحب نے جو روایات اپنی سوانح حیات میں درج کی ہیں۔ان کی تائید میں احمدی اخبارات کے حوالے کثرت سے پیش کئے ہیں۔لہذا ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی سوانح کے واقعات صحیح ہونے کے لحاظ سے احمد یہ لڑ پچر میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں۔مستقبل میں مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی سیرت کو انسان سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ماخذ کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔آپ کی روایت کا سلسلہ بلا واسطہ ہے اور آپ نے بالمشافہ وہ کلمات طیبات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنے ہیں۔اور تقریباً انہی الفاظ میں ادا بھی کئے ہیں۔