حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 342 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 342

حیات بقا پوری 342 حال تھا کہ پیدل سفر کرتے ہوئے کتابوں کی گھڑی اُٹھائے مولویوں کے سامنے آکھڑے ہوتے۔لیکن آپ کی متانت علمی لیاقت و شیریں زبانی سے علماء اس قدر متاثر ہوتے کہ بعد مباحثہ آپ سے مخالفت چھوڑ دیتے اور آپ کا علمی نمونہ اور سجدہ میں گریہ وزاری دیکھ کر غیر احمدی آپ کو ولی اللہ سمجھتے اور جماعت احمدیہ کے لوگ تو آپ کو اپنا باپ ہی سمجھتے۔بچوں کو بھی آپ کے آنے کی خوشی ہوتی۔جہاں جاتے ضرور بچوں کو کچھ نہ کچھ نقدی دیتے۔۔آپ با وجود فقیری لباس میں ہونے کے کلمہ حق کے لیے اس قدر شجاع اور غیور تھے کہ بڑے بڑے رؤسا کو بھی ان کی مجلس میں جا کر صاف صاف بات سناتے۔چنانچہ نواب صاحب خیر پور سندھ کے حقیقی بھائی علی محمد صاحب کو ان کی مجلس میں جا کر تبلیغ کی۔اور وہ اس قدر معتقد ہوئے کہ ہمیشہ آپ کی جرات اور لیاقت کی تعریف کرتے رہے۔ایسا ہی ایک خان بہادر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں اپنی مجلس میں ناشائستہ الفاظ کہے تو آپ نے بے دھڑک ایسی اعلیٰ طرز سے اس کا مقابلہ کیا کہ اُسکے دوستوں نے اس کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔چنانچہ اس نے معافی مانگی۔اسی طرح جو بھی آپ سے ایک دفعہ ہم کلام ہوتا وہ آپ کا مداح بن جاتا حتی کہ بعض مباحثہ کرنے والے غیر احمدی اقرار کرتے کہ مولا نا بقا پوری حق پر ہیں اور صرف یہی جماعت قادیان والی دین کا کام کر رہی ہے۔پھر اس قدر بے نفسی آپ میں تھی کہ کئی ایسے مباحثات کا میابی کے ساتھ ہوئے جن میں کئی احمدی ہوئے اور پھر کئی قسم کی تکالیف بھی آپ کو پہنچیں۔مگر ان باتوں کی اشاعت کو آپ نے کبھی پسند نہ کیا۔بعض اوقات بیعت لیتے وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔- ۱۹۲۷ء میں آپ نے جماعت احمدیہ میں سیاست قائم کرنے کے لیے بعض سرکاری ملازموں پر (جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے رہتے تھے ) مقدمات کرنے کی اجازت دی۔اور دوران مقدمہ میں ان کے معافی طلب کرنے پر معافی دے دی۔معافی دینے پر نہ صرف دوسرے لوگ مرغوب ہوئے بلکہ وہ خود بھی معتقد ہو گئے کیونکہ ان کو صحیح باتیں سننے کا موقعہ مل گیا۔اس لیئے ۱۹۲۷ء د ۱۹۲۸ء میں بھی مولانا بقا پوری صاحب کو گذشتہ سالوں کی طرح لوگوں کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچی۔البتہ ان سالوں میں وجمع الاعصاب سے بیمار ہوئے اور پھر دردسر، آپ اور خشی کا بھی کبھی کبھی دورہ ہو جاتا رہا۔اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی لائق بیٹی مبارکہ مرحومہ کی وفات کا صدمہ ہوا جس نے آپ کو کمزور کر دیا۔مگر آپ بدستور تبلیغ کرتے رہے۔چنانچہ اس سال ۱۹۲۸ء میں بھی تقریباً ۵۰اشخاص داخل سلسلہ ہوئے۔اللھم زدفرد۔