حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 338 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 338

حیات بقاپوری 338 کے متعلق چند امور بیان کرتا ہوں۔ان اوصاف حمیدہ کے علاوہ جن کا ایک مبلغ اسلام میں پایا جانا لازمی ہے۔ان کا ان چار صفات سے متصف ہونا بھی ضروری ہے۔دیانت وامانت تقویٰ وخشیتہ اللہ۔مرکزی احکامات کی اطاعت اور افسروں سے تعاون و وفاداری۔علاقہ میں رسوخ۔دیانت وامانت مجھے خوشی ہے کہ ان چاروں صفات سے مولوی صاحب موصوف متصف ہیں۔مولوی صاحب اپریل ۱۹۲۳ء سے علاقہ سندھ میں کام کر رہے ہیں اور اس وقت سے اب تک انہوں نے اپنے مفوضہ کام کو نہایت دیانتداری سے نبھایا ہے اور کوئی ایسی بات پیدا نہیں ہونے دی جس سے ان پر کسی قسم کی شکایت پیدا ہونے کا احتمال بھی ہوا ہو۔علاقہ سندھ کی تبلیغ ان کے سپرد کی گئی تھی۔اور انہوں نے اس مقدس کام کو اس جانفشانی اور دیانت داری کے ساتھ نبھایا ہے کہ مجھے بہت ہی کم اور شاذ و نادر کے طور پر انہیں ہدایات دینا پڑی ہیں۔اکثر انہوں نے علاقہ کی جماعتوں اور احمدی افراد کا خود ہی خیال رکھا ہے۔اور وقتاً فوقتاً ہر ایک جماعت میں جلد از جلد پہنچ کر ان کی تربیت اور تبلیغ اپنا فرض سمجھا ہے۔اور اس علاقہ سے کبھی کوئی شکایت اس رنگ میں دفتر میں نہیں پہنچی کہ مولوی صاحب فلاں فلاں جماعت کی طرف تو بار بار گئے ہیں اور ہماری طرف نہیں آئے۔بلکہ باری باری سب کا حق ادا کیا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ دیانت اور امانت کا جو بوجھ ان کے کندھوں پر رکھ کر انہیں بھیجا گیا تھا۔اس کو انہوں نے ہمت و استقلال سے اٹھائے رکھا ہے۔تقوی وخشیت اللہ : بعض چھوٹے چھوٹے واقعات ایک متقی انسان کا پتہ دیئے بغیر نہیں رہتے۔چندہ ماہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے مجھے لکھا کہ کوئٹہ کے دوست خواہش کرتے ہیں کہ میں چند دن کے لیے اُن کے پاس جاؤں اور چونکہ کوئٹہ میرے حلقہ سے باہر ہے اس لیے اجازت طلب کرتا ہوں۔میں نے بعض وجوہ سے اجازت نہ دی۔کسی دوست نے ان کو یہاں سے لکھ دیا کہ اگر آپ وہاں جانا چاہتے ہیں تو کوئٹہ والوں کو لکھیں کہ وہ دفتر میں درخواست بھیجیں۔اس کا جواب مولوی صاحب نے اس دوست کو جیسا کہ اس نے خود بیان کیا یہ دیا کہ مجھے کوئی نفسانی خواہش تو وہاں کھینچ نہیں رہی کہ میں اتنی مصیبت میں پڑوں۔خدا کا کام کرنا ہے جہاں وہ چاہے اپنی رضا کے ماتحت لے لے۔کوئٹہ والوں کو میں نے یہی لکھ دیا ہے کہ مرکز کی طرف سے اجازت نہیں۔اس سے زیادہ یہ لکھنا کہ تم خود وہاں درخواست کرو۔میں نے