حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 336 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 336

حیات بقاپوری 336 رپورٹ صیغہ دعوت و تبلیغ علاقہ سندھ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء) احباب کرام کو معلوم ہوگا کہ علاقہ سندھ میںحضرت خلیفہ اسی الثانی اید اللہ تعالی نے ایک رویا کی بناء پر ۱۹۲۳ء میں مشن قائم کیا اور مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کو اس علاقہ کا امیر التبلیغ مقرر کیا تھا۔زبان اور علاقہ کے حالات سے ناواقفیت جو ایک مبلغ کے لیے مشکلات کا موجب ہو سکتی ہیں وہی مولوی صاحب کے لیے اولا سد راہ ہوئیں۔کیونکہ لوگ عام طور پر سندھی بولتے اور سمجھتے ہیں۔اور مولوی صاحب اس زبان سے بالکل ناواقف تھے لیکن رفتہ رفتہ چندہ ماہ میں چند کتابیں سندھی کی پڑھ کر تقریر کرنے کے قابل ہو گئے۔۱۹۲۴ء میں ان کو دو معاون دئے گئے اور اب صرف ایک ہی معاون ان کے ساتھ ہے۔اس علاقہ میں بھی ملکانہ کی طرح آریہ لوگ بعض قوموں سنجوگی قوم میں اپنا کام (شدھی کا) کہیں کہیں کر رہے تھے۔لیکن مبلغین سندھ نے ایسی تمام جگہوں کا دورہ کر کے اس آنے والے سیلاب کو روک دیا۔سال زیر رپورٹ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اپنی اور اپنے بچوں کی طویل علالت کی وجہ سے دو ماہ کی رخصت پر اپنے علاقہ سے غیر حاضر رہے۔اس کے بعد ان کی قابل اور لائق بیٹی فوت ہو گئی اور اس وجہ سے ان کو قریباً ۲۰ یوم پھر قادیان میں رہنا پڑا۔ان ناخوشگوار حالات میں بھی انہوں نے اپنے فرائض منصبی کو نہایت خوش اسلوبی اور جانفشانی سے ادا کیا ہے۔ان کا مرکز روہڑی میں ہے لیکن تمام سال وہ دورہ پر رہتے ہیں۔سال زیر پورٹ میں ان کو دو دفعہ کراچی کی جماعت کی اصلاح و تربیت کے لیے جانا پڑا۔علاقہ کی تمام جماعتوں کا بار بار دورہ کیا۔نئی انجمنیں قائم کیں۔۷۵ گس مولوی صاحب کے ہاتھ پر داخل سلسلہ ہوئے۔دونوں مبلغین نے ۲۸۸ مقامات کا دورہ کیا۔آٹھ جلسے اور مناظرے ہوئے جن میں سے تین جگہوں میں سے غیر احمد یوں نے اپنے خرچ پر بلایا۔علاقہ سندھ میں سلسلہ کے متعلق پہلے بہت نفرت اور تعصب تھا جو رفتہ رفتہ کم ہوا۔اب لوگ سلسلہ اور